حیاتِ نور

by Other Authors

Page 743 of 831

حیاتِ نور — Page 743

۷۳۸ ساتٍ نُ ـور ایسا انسان حضرت خلیفہ مسیح کی وصیت کی رو سے حضور کا جانشین نہیں بنایا جا سکتا۔اس میں بھی مولوی محمد علی صاحب کا اشارہ سید نا حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی کی طرف تھا۔مگر جب کریدا گیا تو ثابت ہوا کہ این گناه ایست که در شهر شما نیز کنند مگر افسوس کہ مولوی محمد علی صاحب نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر آپ متفھی نہ تھے تو کیا حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ایک غیر متقی کو امام الصلوۃ اور خطیب مقرر کیا ہوا تھا آپ کو تو چاہئے تھا کہ جناب مولوی محمد علی صاحب ایسے امام المتقین یا آپ کے ساتھیوں میں سے کسی منفی کو امام الصلوۃ اور خطیب مقرر کرتے اور جب بھی کوئی ایسا پاک اور مقدس وجود آپ کی مجلس میں آتا تو جس طرح آپ سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی تعظیم کیا۔کرتے تھے اور اپنے پاس نہایت ہی اعزاز اور اکرام سے بٹھا یا کرتے تھے اسی طرح آپ کے بجائے اسے بٹھاتے اور جس طرح حضور نے آپ کی خلافت کے واضح اشارے فرمائے تھے بلکہ ایک مرتبہ تو آپ کے حق میں وصیت بھی فرما دی تھی اس منتفی کے حق میں بھی ایسا کرتے یعنی جناب مولوی محمد علی صاحب یا آپ کی پارٹی کے کسی متقی کے حق میں مگر آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔لہذا معلوم ہوا کہ متقی کی جو تعریف جناب مولوی محمد علی صاحب نے کی تھی وہ بالکل غلط ہے اور اگر متقی کی یہی تعریف ہے کہ جو مسلمانوں کی تکفیر نہ کرتا ہو تو اس تعریف کی رو سے تو خود مولوی محمد علی صاحب اور اُن کے ساتھی بلکہ جماعت کا کوئی فر بھی تقی نہیں کہلا سکتا بلکہ مولوی صاحب کی اس خود ساختہ تعریف کی زد سے حضرت صبح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ امسیح الاول کا اتقاء بھی محفوظ نہیں رہتا جیسا کہ ہم اوپر تفصیل کے ساتھ ثابت کر چکے ہیں۔پس یا درکھنا چاہے کہ متقی وہ نہیں جے مولوی محمد علی صاحب یا ان کے ہم خیال متقی قراردیں بلکہ متقی وہ تھا جسے خدا تعالٰی نے اپنی فعلی شہادت سے متقی ثابت کیا اور جسے اس کے بندے حضرت خلیفۃ المسیح نے متقی کہا۔فالحمد للہ علی ذلک۔مؤیدین خلافت کی جوابی کارروائی مؤیدین خلافت نے جب جناب مولوی محمد علی صاحب کا ٹریکٹ ہر باہر سے آنے والے احمدی کے ہاتھ میں دیکھا تو اس میں چونکہ ایسا مواد موجود تھا جس کی وجہ سے جماعت کے اتحاد اور اتفاق کو سخت دھکا لگنے کا خطرہ تھا۔علاوہ ازیں اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وصایا کی بھی بے قدری کی گئی تھی۔نیز جماعت کے احباب سے اپنی تحریر پر رائیں بھی طلب کی گئی تھیں۔اس لئے مؤید بین خلافت کو ضرورت پیش آئی کہ وہ بھی احباب جماعت کو صحیح حالات سے