حیاتِ نور

by Other Authors

Page 729 of 831

حیاتِ نور — Page 729

۷۲۴ خاندان کے اراکین اور خواتین مبارکہ کے علاوہ اپنے دوستوں ، رفیقوں اور ہر طبقہ و درجہ کے لوگوں کو سمجھا بجھا کر وعظ و نصیحت کر کے ، خطبات دے کر وحدت قومی اور اتحاد کے برکات و فیوض جتا کر ، اختلاف و شقاق اور تنازع و نفاق کے نتائج و عواقب سے ڈراتے ہوئے کبھی کو اپنا ہم خیال بنالیا تھا مگر اس نئے فتنہ کی افتاد اور تازہ سازش کا انکشاف حضور کے پہلے فیصلہ کے نفاذ اور عملی قدم اٹھانے کی راہ میں سد سکندری کی طرح آن حائل ہوا تھا۔کیونکہ اس میں سرے سے خلافت کے وجود و قیام نیز ضرورت بیعت ہی سے انکار کر دیا گیا تھا جس کے لئے حضور بہت فکر مند تھے۔فیصلہ وہی بحال رہا۔جو رات کے پہلے حصہ میں ہو چکا تھا۔بلکہ اس ٹریکٹ نے دوستوں کے اس فیصلہ کو اور بھی تقویت پہنچادی۔ٹریکٹ کا مضمون ـور احباب یہ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ ٹریکٹ جس کا ذکر ابھی آپ پڑھ چکے ہیں۔یہ حضرت خلیفہ بیع الاول کی زندگی میں جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے طبع کروا کر اس لئے محفوظ رکھ پھوڑا تھا کہ حضرت خلیفہ ایچ کے وصال کے معابعد جماعت کے لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ٹریکٹ کا عنوان تھا ایک نہایت ضروری اعلان اس کے چند ایک اقتباسات درج ذیل ہیں: اول۔سب سے پہلی بات جو میں چاہتا ہوں آپ یاد رکھیں یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی تحریک اس مضمون کی پہنچے کہ فلاں شخص کے ہاتھ پر چالیس احمد یوں نے بیعت کر لی ہے۔یا اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ لوگوں سے بیعت لے تو حضرت مسیح موعود کی وصیت کے ماتحت وہ بے شک اس بات کا تو مجاز ہے کہ ان لوگوں سے جو سلسلہ میں داخل نہیں ،سلسلہ میں داخل کرنے کے لئے مسیح موعود کے نام پر بیعت لے مگر اس سے زیادہ کوئی مرتبہ اس کا سلسلہ میں تسلیم نہیں ہو سکتا ، حضرت مسیح موعود کی اس زبانی شہادت کے علاوہ آپ کے الفاظ بھی قابل غور ہیں۔جن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ یہاں یہ فرمایا کہ وہ میرے نام پر بیعت لئے جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ وہ بیعت صرف سلسلہ احمدیہ میں داخل کرنے کے لئے ہے نہ کسی اور غرض کے لیے پھر جماعت کے