حیاتِ نور — Page 716
ور لا زوال خزائن سے مالا مال کر دیا۔جس کے ابوں پر علم و حکمت کے دریا بہتے تھے۔جو فصاحت و بلاغت کا ایک وسیع سمندر تھا۔جو چند لفظوں میں مشکل سے مشکل سوال اور بڑے سے بڑے اعتراض کو حل کر دینے میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔جس کے سامنے شدید سے شدید مخالف کو بھی دم مارنے کی گنجائش نہ ہوتی تھی۔جس کی موجودگی بیچین و مضطرب روحوں کے لئے باعث تہ سکین و راحت تھی۔جو ہم سب کے لئے اس وقت جب ہم غفلت کی نیند سورہے ہوتے تھے راتوں کی تاریک گھڑیوں میں ہماری فلاح و بہبود اور ہماری دینی و دنیوی مشکلات و مصائب کی نجات کی خاطر اپنے آزتنا و مولا ارحم الراحمین خدا کے حضور انتہائی سوز و گداز اور کرب و اضطراب سے سر بجو درہتا تھا۔جس کے چشمہ فیض سے سب ہی بلا لحاظ مذہب وملت سیراب ہوتے تھے۔جس کے طبی کمالات سے آج بھی ملکہ کے نامور اطباء مستفید ہو رہے ہیں۔کئی ہفتوں کی مسلسل علالت کے بعد ۱۳ مارچ ۱۹۱۷ء بروز جمعہ المبارک سوا دو بجے بعد دو پہر بحالت نماز اپنے پیارے مولیٰ کو خود پیارا ہو گیا۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ مماثلت یہ عجیب مماثلت ہے کہ جس طرح حضرت ابو بکر صدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں اتنے ہی چھوٹے تھے جتنی مدت آپ نے خلافت کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر یعنی تریسٹھ سال عمر پا کر آپ فوت ہوئے۔اسی طرح حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ بھی تنضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام سے اتنے ہی چھوٹے تھے جتنی مدت آپ نے حضور کے بعد خلافت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے برابر یعنی ۷۴ سال عمر پا کر وفات پائی۔ایسے مقدس اور متبرک انسان دنیا نے بہت ہی کم دیکھے ہیں۔باوجود اس عظمت، رفعت اور شان کے آپ نے اپنے امام، مطاع اور آقا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت و فرمانبرداری کا وہ کامل نمونہ دکھایا جس کی مثال اس زمانہ میں ملنا محال ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود اطاعت و فرمانبرداری کو آپ کے پاک وجود پر ناز ہے اور ہمارے ماں باپ قربان ہوں اس پاک و مقدس آقا پر بھی (علیہ الصلوۃ والسلام ) جو اس گوہر نایاب کا واقعی جو ہر ہی نکلا۔اس نے بھی اس کی خوبیوں کو اس قدر سراہا کہ آج ہر احمدی آپ کی اس خوش بختی پر نازاں و فرحاں ہے۔مسیح پاک نے اس ایک شعر ہی میں آپ کے علومشان اور بلند مقام ومرتبہ کا حقیقی حسن دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا کہ۔