حیاتِ نور

by Other Authors

Page 710 of 831

حیاتِ نور — Page 710

ـور ۷۰۵ مضمون دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا اور اتفاق پر زور دیا۔جب مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں نے بجائے اتفاق پر زور دینے کے پچھلے قصوں کو دوہرانا شروع کیا اور لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ وہ خواجہ صاحب پر یا ان کے دوسرے ہم خیالوں پر کیوں حملہ کرتے ہیں؟ اور خوب زجر و توبیخ کی۔لوگ میرے لحاظ سے بیٹھے رہے۔ورنہ ممکن تھا کہ بجائے فساد کے رفع ہونے کے ایک نیا فساد کھڑا ہو جاتا اور اسی مجلس میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی۔آخر میں کچھ کلمات اتفاق کے متعلق بھی انہوں نے کہے مگر وہ بھی سخت لہجہ میں۔جس سے لوگوں میں زیادہ نفرت پیدا ہوئی اور افتراق میں ترقی ہوئی۔جماعت کے اتحاد کی کوششیں چونکہ حضرت خلیفہ اول کی طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل تھی اور لوگ نہایت افسوس کے ساتھ آنے والے خطرہ کو دیکھ رہے تھے۔طبعاً ہر ایک شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا تھا کہ اب کیا ہوگا ؟ میں تو برابر دعاؤں میں مشغول تھا اور دوسرے دوستوں کو دعاؤں کے لئے تاکید کرتا تھا۔اس وقت اختلافی مسائل میرے سامنے نہ تھے بلکہ جماعت کا اتحاد مدنظر تھا اور اس کے زائل ہو جانے کا خوف میرے دل کو کھا رہا تھا۔چنانچہ اس امر کے متعلق مختلف ذی اثر احمدیوں سے میں نے گفتگوئیں کیں۔عام طور پر ان لوگوں کا جو خلافت کے مقر تھے اور نبوت مسیح موعود کے قائل تھے یہی خیال تھا کہ ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی جا سکتی۔جس کے عقائد ان عقائد کے خلاف ہوا، کیونکہ اس سے احمدیت کے مٹنے کا اندیشہ ہے۔مگر میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اتحاد سب سے زیادہ ضروری ہے شخصیتوں کے خیال سے اتحاد کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کو خاص طور پر سمجھانا شروع کیا کہ خدانخواستہ حضرت خلیفہ اسیح کی وفات پر اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو ہمیں خواہ وہ تھوڑے لوگ ہی ہیں ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے کیونکہ میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی ہمارا ہم عقیدہ شخص خلیفہ ہوا تو وہ لوگ اس کی بیعت نہیں کرینگے اور جماعت میں اختلاف پڑ جائے گا اور جب میں ان میں سے کسی کی بیعت کر لونگا۔تو امید ہے