حیاتِ نور — Page 53
ـور ۵۳ بھی معلوم نہیں کہ یہ کھاتے کہاں سے نہیں“۔آپ فرماتے ہیں: سید صاحب بہت ہی کم سخن تھے اور باتیں کرنے میں اس قدر تامل تھا کہ بعض اوقات ضروری کلام بھی نہیں فرماتے تھے۔حرم میں میں اُن سے مسلم پڑھتا تھا۔سائل بھی وہاں آ جاتے تھے۔وہ تھوڑی دیر تک ان سائکلوں کو دیکھتے رہتے تھے۔پھر کسی کو کہتے تھے کہ تم یا باسط پڑھو۔کسی کو کہتے یا غنی پڑھو، کسی کو یا حمید کسی کو یا مجید وغیرہ پڑھنے کا حکم دیتے۔یہ اُن کی معمولی روزانہ باتیں تھیں۔لیکن میں اُن سے یہ نہ پوچھ سکا کہ یہ مختلف اسماء مختلف اشخاص کو آپ کیوں بتاتے ہیں۔اُن کی قلت کلام نے پوچھنے کی اجازت نہ دی۔ہے مولوی رحمت اللہ صاحب وہی مشہور عالم ہیں جنہوں نے عیسائیوں کے ساتھ بڑے بڑے معرکہ الآرا مناظرات کئے۔مولوی صاحب موصوف سے متعلق آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنے اُستادوں کو دیکھا ہے وہ ذرا بھی مخالفت کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔بس ایک مولوی رحمت اللہ صاحب کو دیکھا ہے کہ میں نے ان کا سخت سے سخت مقابلہ کیا ہے لیکن وہ بنتے ہی رہتے تھے۔میں نے کسی مولوی کا یہ دل گردہ نہیں دیکھا“۔کے اعتکاف بیٹھنے کی تاریخ شیخ محمد خزرجی کو صحاح ستہ پر کافی عبور حاصل تھا۔ایک دفعہ ابوداؤد پڑھتے ہوئے اعتکاف کے مسئلہ پر کچھ اختلاف پیدا ہو گیا۔شیخ صاحب فرماتے تھے کہ یہ حدیث بہت مشکل ہے کیونکہ اگر اکیسویں تاریخ کی صبح کو اعتکاف بیٹھا جائے تو ممکن ہے اکیسویں رات کو لیلتہ القدر ہواور اگر بیسویں تاریخ کو عصر کے وقت بیٹھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔حضرت خلیفہ ایج الاول فرماتے ہیں۔میں نے کہا اگر بیسویں تاریخ کی صبح کو بیٹھ جائیں تو کیا حرج ہے؟ فرمایا، یہ تو اجماع کے خلاف ہے۔آپ نے فرمایا، اجماع کا لفظ تو یونہی بول دیا جاتا ہے۔آپ کے اس فقرہ کو سنکر شیخ صاحب کچھ خفا سے ہو گئے اور جا کر مولوی رحمت اللہ صاحب سے ذکر کر دیا۔آپ جب مولوی موصوف کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا، آج تمہارا اپنے شیخ سے کیا مباحثہ ہوا ؟ عرض کی، جناب ! یہ ایک جزوی مسئلہ تھا۔اکیسویں تاریخ کو اعتکاف نہ بیٹھے بیسویں کو بیٹھ گئے ، فرمایا کہ یہ تو اجماع کے خلاف ہے۔عرض کیا، بھلا اس چھوٹی سی بات