حیاتِ نور

by Other Authors

Page 704 of 831

حیاتِ نور — Page 704

حي ــور ۶۹۹ اور کوٹھی کے باہر کے شمالی کمرہ میں آپ کو رکھا گیا۔باقی بیرونی سارے کمرے مہمانوں کے لئے خالی کرادیئے گئے۔کافی جگہ تھی جس سے سب لوگوں کو آرام اور سکون ملا۔نواب صاحب کے گھر سے صرف حضرت خلیفہ اول کے لئے ہی نہیں بلکہ باقی سارے خاندان اور سارے مہمانوں کے لئے کھانا پک کر آتا رہا اور آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بھی اکثر اوقات وہیں رہتے تھے۔اسی مکان میں حضرت خلیفہ اول نے وصیت فرمائی کہ آپ کے بعد ان کا ایک جانشین ہو اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔یہ وصیت مولوی محمد علی صاحب مرحوم سے پڑھوائی گئی تھی۔خلیفہ اول کو چونکہ اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ خلافت کے مخالف ہیں۔اس لئے اونچی آواز سے ان سے وصیت پڑھوائی تاکہ انہیں کوئی بہانہ بعد میں ہاتھ نہ آئے۔لیکن بہانہ کرنے والوں نے بہانہ کیا حضرت خلیفہ اول کی وفات جمعہ کے روز ہوئی۔ہم لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔میں جمعہ کے بعد جلدی جلدی چل پڑا کہ حضرت خلیفہ اول کی طبیعت معلوم کروں۔میں اس وقت اس گلی میں سے گزر رہا تھا جوانی المکرم مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان سے اور بعد میں بنے ہوئے قصر خلافت کے ساتھ سے گزرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی دائیں جانب ایک سکھوں کا مکان ہے۔جب میں یہاں سے گزر کر سکھوں کے مکان کے مقابل پہنچا ہوں تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اطلاع دی کہ حضرت خلیفہ اول وفات پاگئے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔میں نے اُس وقت بغیر کچھ سوچنے کے تیزی کے ساتھ بھاگنا شروع کیا لیکن میں نے دو قدم ہی اٹھائے تھے کہ مجھے خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اول تو وفات پاچکے ہیں۔بھاگنے سے کیا فائدہ۔جماعت کے حالات بہت منتشر حالت میں ہو گئے ہیں۔میں تیسرے قدم پر کھڑا ہو گیا اور بڑے الحاج کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ الہی خلیفہ اول تو فوت ہو گئے ہیں۔اب جماعت کو فتنوں سے محفوظ رکھنا میں کافی عرصہ تک ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی گلی میں سے ہو