حیاتِ نور — Page 703
۲۹۸ رہائش کے لئے میں نے اور میاں عبداللہ خاں صاحب نے مشورہ کیا کہ نواب صاحب کو تاکید کی جائے کہ وہ حضرت خلیفہ اول کو دعوت دیں کہ آپ کی کوٹھی پر تشریف لے جائیں۔وہ کھلی جگہ تھی، باغ تھا، چار پائی اندر اور باہر حسب ضرورت نکالی جا سکتی تھی اور ایسے لوگوں کا وہاں ساتھ تھا۔جن سے آپ کی طبیعت بہل سکتی تھی۔اس امر کو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے بڑی خوشی سے منظور کر لیا اور اس خبر کے سننے سے آپ کی طبیعت میں نشاط پیدا ہو گئی۔جس وقت حضرت خلیفہ اول کو لیجانے کا سوال پیدا ہوا۔اس وقت دوست اکٹھے ہو گئے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔گھر سے چلنے کے بعد پہلی دفعہ چار پائی بورڈنگ کے سامنے (جہاں میزوں کا اڈہ بنا ہوا تھا ) روکی گئی۔مجھے اس بات کا یقینی پستہ لگا کہ ان لوگوں کی رائے تھی کہ اس آخری وقت میں چار پائی روک کر کسی ترکیب سے حضرت خلیفہ اول کو اس جگہ یعنی بورڈنگ میں رکھ لیا جائے۔جس وقت چار پائی وہاں ٹھہری جہاں اس کے ٹھہرانے کی وجہ کوئی نہیں تھی کیونکہ قادیان سے لے کر بورڈ نگ تک ایک لمبا فاصلہ تھا اور اس کے بعد تقریبا ۱۵۰ اگز پر نواب صاحب کی کوٹھی رہ جاتی تھی۔جب چار پائی وہاں رو کی گئی۔تو حضرت خلیفہ اول نے نظر اٹھا کر دیکھا اور حسرت سے فرمایا ( میں یہ الفاظ سن رہا تھا کہ ” ہیں یہ اس جگہ مجھے لا رہے ہیں؟“۔اس فقرہ سے میں نے آپ کی طبیعت میں سخت رکاوٹ محسوس کی۔اس وقت میں چارپائی کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔میں نے فورا حضرت خلیفہ اول کو اونچی آواز سے کہا کہ حضور یہ صرف چلنے والوں کو آرام دینے کے لئے کیا ہے ورنہ ویسے آپ نواب صاحب کی کوٹھی پر ہی جارہے ہیں۔یہ میری بات سن کر حضرت خلیفہ اول کو اطمینان ہو گیا اور پھر ہم چار پائی لے کر آگے چل پڑے۔میرا اونچی آواز سے بولنے کا مقصد یہی تھا کہ اگر کسی کا خفیہ ارادہ ہو کہ آپ کو بورڈنگ میں لے جایا جائے تو وہ بھی دب جائے۔چنانچہ میں نے محسوس کیا کہ وہ دب گیا۔میرے کہنے کے بعد کسی اور کو اس کی تردید کرنے کی جرات نہ ہوئی۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اول بڑے آرام سے نواب صاحب کی کوٹھی پہنچ گئے ـور