حیاتِ نور — Page 685
ـور الفاظ میں شائع کیا کہ جس شخص نے اظہار حق لکھا اور جنہوں نے کھلی چٹھی شائع کی اور جنہوں نے خلافت پر بحث کی اور ٹریکٹ شائع کئے۔ان کا حق کیا تھا ؟ " ان الفاظ میں ”پیغام صلح نے جماعت میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ حضرت صاحب نے جس طرح خفیہ ٹریکٹوں کی اشاعت پر اظہار نفرت کیا ہے۔اسی طرح انصار اللہ کی طرف سے جوان کے جوابات دیئے گئے ہیں انہیں بھی نا پسند فرمایا ہے۔حالانکہ یہ بات قطعا غلہ تھی۔وہ ٹریکٹ تو آپ کو دکھانے کے بعد شائع کئے گئے تھے۔چنانچہ جب آخری مرتبہ آپ کی خدمت میں ان کا مسودہ پیش کیا گیا۔تو آپ نے اس پر یہ لکھا کہ اخلاص سے شائع کرو۔خاکسار بھی دعا کریگا اور خود بھی دعا کرتے رہو کہ شریر سمجھے یا کیفر کردار کو پہنچے۔نورالدین ۱۳ حضرت خلیفة المسح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیزتحریر فرماتے ہیں کہ ی تحریر اب تک ہمارے پاس موجود ہے۔پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح اول تو ان ٹریکٹوں کے بااثر ہونے کے لئے دعا کا وعدہ فرماتے ہیں اور اگر اظہار حق کا مصنف باز نہ آئے تو اس کے لئے بددعا کرتے ہیں۔مگر ”پیغام صلح حق کی مخالفت کی وجہ سے ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ انصار اللہ کے ٹریکٹوں پر حضرت خلیفہ المسیح اول کو ناراض لکھتا ہے۔اصل سبب یہی تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اظہار حق کے مضمون کی طرف لوگوں کی توجہ ہو اور اس کے جواب پر لوگ بدگمان ہو جائیں۔لیکن اس کا یہ حربہ بھی کارگر نہیں ہوا۔کیونکہ حضرت خلیفہ المسیح نے ۱۵ جنوری ۱۹۱۴ ء کو ایک تحریر کے ذریعہ شائع فرمایا کہ: پچھلے سال بہت سے نادانوں نے قوم میں فتنہ ڈلوانا چاہا اور اظہار حق نامی اشتہار عام طور پر جماعت میں تقسیم کیا گیا۔جس میں مجھ پر بھی اعتراضات کئے گئے۔مصنف ٹریکٹ کا تو منشاء ہوگا کہ اس سے جماعت میں تفرقہ ڈال دے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بندہ نوازی سے مجھے اور جماعت کو اس فتنہ سے بچالیا۔نیز متعدد مرتبہ ان لوگوں کی تکلیف دہ کاروائیوں اور ناشائستہ حرکات کو دیکھ کر آپ نے اظہار