حیاتِ نور

by Other Authors

Page 670 of 831

حیاتِ نور — Page 670

ـاتِ نُ ـور ۲۶۵ کہ حضرت خلیفہ اسیح اول نے ان کی عہد شکن کاروائیوں کی بناء پر ان پر رحم کر کے ان سے دوبارہ بیعت کی تھی۔کمائے۔ہمارے نزدیک حضرت خلیفہ المسیح اول کا یہ ان لوگوں پر احسان تھا۔ورنہ اگر آپ چاہتے تو خلافت کے نظام کے خلاف اپنی خفیہ کاروائیوں کی وجہ سے وہ اس قابل تھے کہ انہیں جماعت سے خارج کر دیا جاتا۔الوصیت" کی خلاف ورزی کی بھی خوب کہی۔ٹریکٹ لکھنے والے کا مطلب اس فقرہ سے یہ ہے کہ الوصیت کی رو سے تو انجمن حضور کی جانشین تھی۔اور حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کا بطور خلیفه انتخاب سراسر نا جائز تھا۔مگر صدرانجمن کے ممبران نے آپ کی بیعت کا جوکا اپنی گردنوں پر رکھ کر خود سی ذلت برداشت کی۔کہ اپنی برتری کو ترک کر دیا۔ٹریکٹ نولیس کو یہ اعتراض اللہ تعالیٰ کی ذات پر کرنا چاہئے۔جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر تمام جماعت کی گردنوں کو متفقہ طور پر حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب سکے آگے جھکا دیا۔اس میں انجمن کے اراکین کا کوئی دخل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ خلیفہ خدا بنایا کرتا ہے۔انجمنیں نہیں بنایا کرتیں۔آیت استخلاف اور حضرت خلیفۃ المسیح اول کی تصریحات اس پر شاہد ناطق ہیں۔سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بیان پیچھے گزر چکا ہے کہ آپ کے دل میں نہ خلافت کی تمنا تھی اور نہ ہی کبھی خلافت کا خیال آپ کے دل میں آیا تھا۔بلکہ جس روز اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلافت کی قبا پہنائی۔اس روز آپ کو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں تھے۔واقعات شاہد ہیں کہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب بیعت کے الفاظ کہتے جاتے تھے اور آپ دوہراتے جاتے تھے۔آپ کو اگر کسی نے مدعی خلافت یا مامور اور مصلح موعود کے طور پر پیش کیا ہے۔تو آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔لوگوں کے دل اگر خدا تعالیٰ کسی انسان کی طرف مائل کر دے۔تو کون ہے جو اس کے فضل کو رد کر سکے۔کیا خلیفہ وقت نے جب 1911ء میں گھوڑے سے گرنے کے بعد زیادہ بیمار ہونے کے ایام میں آپ کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ نے حضور کو مجبور کیا تھا کہ میرے حق میں وصیت کی جائے ؟ جن انجمن کے ممبروں کی طرف ٹریکٹ لکھنے والے نے اشارہ کیا ہے کہ ان کی نسبت یہ مشہور کیا جاتا رہا کہ وہ اہل بیت کے دشمن اور بد خواہ ہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ وہ دشمن اور بدخواہ تھے۔بلکہ انہوں نے اعلان کر کے اس کا ثبوت بھی مہیا کر دیا تھا۔ان مخصوص افراد کے علاوہ کسی اور کی طرف