حیاتِ نور

by Other Authors

Page 659 of 831

حیاتِ نور — Page 659

۶۵۴ ـور وجہ سے پیدا ہو چکا تھا۔یقیناً جماعت کو تر بتر کر دیتا۔جن لوگوں کو تاریخ اسلام سے ذرا بھی شدید ہے۔وہ خوب جانتے ہیں کہ خلفاء راشدین کے مختصر سے زمانہ میں اسلام کو جو ترقی حاصل ہوئی۔وہ بعد کے مسلمان صدیوں میں بھی حاصل نہ کر سکے۔بلکہ وحدت اور اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن کمزور ہوتے چلے گئے۔دور کیوں جائیے۔وہی حضرات جو اخبار پیغام صلح" سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے بزرگوں اپنی جناب مولوی محمدعلی صاحب ایم۔اے اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر نے جب دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسی اول کی بیعت تو ہم لوگ کر ہی چکے ہیں اور جماعت میں آپ کا اثر و رسوخ اس قدر ہے کہ ہم آپ کو معزول بھی نہیں کر سکتے اور آپ کے بعد صاف نظر آ رہا ہے کہ ہمیں کوئی خلافت کی مسند پر بٹھانے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔خلافت اولیٰ میں بھی اور پھر خلافت ثانیہ کے قیام کے بعد لاہور میں اپنا الگ مرکز بنا کر بھی شخصی خلافت کو مٹانے کے لئے خوب زور لگایا۔اور جمہوریت جمہوریت کی آواز میں بلند کرنے لگے۔کبھی شخصی خلافت کو پیر پرستی اور شخصی غلامی کہہ کر جماعت کو حضرت خلیفہ اسیح سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔کبھی انجمن کی جانشینی کے الفاظ کو بار بار دو ہرایا۔مگر چونکہ ان کی ساری کوششیں نفسانیت پر مبنی تھیں۔تائید الہی ان کے ساتھ ہرگز نہ تھی۔اس لئے انہیں بری طرح منہ کی کھانی پڑی۔اگر ان کی کوشش میں خود غرضی نہ ہوتی۔تو چاہئے تھا کہ جب انہوں نے مرکز احمدیت سے الگ ہو کر اپنا مرکز لاہور میں بنا لیا تھا تو انجمن سے ہی کام چلاتے اور امارت کا نظام قائم نہ کرتے۔مگر نہ صرف یہ کہ انہوں نے امارت کا نظام قائم کیا۔بلکہ اس پر اتناز ور دیا کہ جماعت کو اس امر کی بار بار تلقین کی کہ جس طرح صحابہ کرام نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی اطاعت کی تھی۔اگر تم نے اسی طرح امیر کی اطاعت نہ کی۔تو تم کبھی بھی کامیابی کامنہ نہیں دیکھ سکو گے۔اب ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ اگر فرد واحد کی اطاعت سے بقول تمہارے پیر پرستی کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔اور قوم کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔تو تم اب کیوں جماعت کو یہ تلقین کر رہے ہو۔کہ وحدت عمل اور اتحاد کے لئے یہ ضروری ہے کہ قوم امیر کے اشارے پر چلے ورنہ ترقی محال ہے۔چنانچہ ایڈیٹر صاحب پیغام صلح لکھتے ہیں: جماعتی ترقی اس وقت تک ناممکن ہے۔جب تک کہ افراد جماعت میں یک جہتی اور اتحاد عمل کا فقدان ہو اور اتحاد عمل مرکزیت اور اطاعت امیر کے بغیر وہم و گمان کے سوا کچھ نہیں اور ترقی و عروج اس کے بغیر کار محال۔علاوہ ازیں بہت کم انسان پائے جاتے ہیں جو عقل و خرد کی رہنمائی سے خود بخود ایک کام پر لگ