حیاتِ نور — Page 642
صاحب حوالدار کی ان ایام میں وہاں ڈیوٹی تھی۔انہوں نے پکڑ لیا۔بٹالہ لے گئے۔وہاں سے میاں غلام رسول ڈی۔ایس۔پی۔آف بنوں تفتیش کے لئے قادیان آئے۔حضور کا بیان لیا۔مقدمہ چلا اور وہ تین سال کے لئے قید ہو گیا۔قید کا وقت گزرنے کے پانچ چھ ماہ بعد میں قادیان گیا۔اسے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا اپنی ملازمت کے لئے کچھ مشورہ لے رہا تھا۔اور حضور اسے ہمدردانہ مشورہ دے رہے تھے۔مجھے بڑا غصہ آیا۔میں نے حضور کی خدمت میں رقعہ لکھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ قاتلانہ حملہ کرنے والے کے ساتھ یہ سلوک ! مسکرا کر فرمایا کہ جب اس نے مجھے پر اعتماد کیا۔تو میں کیوں مشورہ نہ دیتا۔یہ سن کر میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔تصرف روحانی حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوا۔دو چار اور بھی پہلے سے موجود تھے۔آنے والے صاحب نے تھوڑی دیر بیٹھ کر اجازت چاہی۔حضرت نے دریافت فرمایا کہ اتنی جلدی کیوں جاتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ ایک ضرورت سے مجھے مفتی محمد صادق صاحب سے ملنا ہے۔فرمایا بیٹھئے وہ یہیں آجائیں گے۔چند منٹ بعد مفتی صاحب تشریف لے آئے۔سلام اور جواب کے بعد حضور نے پوچھا کہ آپ اس وقت کیوں آئے اور کس ارادے سے؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! دوسری جگہ جا رہا تھا اور چالیس پچاس قدم آگے بھی بڑھ گیا تھا کہ یکدم حضور سے ملاقات کا خیال آیا اور واپس آ گیا۔حاضرین کو یہ سن کر بہت تعجب ہوا۔ایک صاحب کو قلمی کتا بیں دکھائیں ایک صاحب جنہیں قلمی کتا میں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔حضرت خلیفتہ اسی الاول کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے انہیں کئی لطیف قلمی کتا بیں دکھا ئیں۔جو آپ نے بڑی محنت اور زرکشیر کے! صرف سے مہیا کی تھیں۔3