حیاتِ نور

by Other Authors

Page 613 of 831

حیاتِ نور — Page 613

ـور ۶۰۸ دی ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کو کیمیا کا نسخہ آتا تھا اور آپ چونکہ ان کی جگہ خلیفہ مقرر ہوئے ہیں اس لئے وہ آپ کو ضرور کیمیا کا نسخہ بتا گئے ہوں گے۔پس مہربانی کر کے وہ نسخہ مجھے بتا دیجئے۔میں نے کہا مجھے تو کیمیا کا کوئی نسخہ نہیں بتا گئے۔وہ کہنے لگے۔یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ آپ ان کی جگہ خلیفہ ہوں اور وہ آپ کو کیمیا کا نسخہ بھی نہ بتا گئے ہوں۔غرض میں انہیں جتنا یقین دلاؤں کہ مجھے کیمیا کا کوئی نسخہ نہیں ملا۔اتناہی ان کے دل میں میرے بخل کے متعلق یقین بڑھتا جائے۔میں انہیں بار بار کہوں کہ مجھے ایسے کسی نسخہ کا علم نہیں اور وہ پھر میری خوشامد کرنے لگ جائیں اور نہایت لجاجت سے کہیں کہ میری ساری عمر اس نسخہ کی تلاش میں گزرگئی ہے۔آپ تو بخل سے کام نہ لیں اور یہ نسخہ مجھے بتادیں۔آخر جب میں ان کے اصرار سے بہت تنگ آ گیا۔تو میرے دل میں خدا تعالٰی نے ایک نکتہ ڈال دیا اور میں نے ان سے کہا کہ گو میں مولوی صاحب کی جگہ ان کا خلیفہ بنا ہوں۔مگر آپ جانتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کے مکان مجھے نہیں ملے۔وہ کہنے لگے مکان کس کو ملے ہیں؟ میں نے کہا۔ان کے بیٹوں کو۔پھر میں نے کہا ان کا ایک بڑا بھاری کتب خانہ تھا مگر وہ بھی مجھے نہیں ملا۔پس جب کہ مجھے نہ ان کے مکان ملے اور نہ ان کا کتب خانہ ملا ہے تو وہ مجھے کیمیا کا نسخہ کس طرح بتا سکتے تھے۔اگر انہوں نے یہ نسخہ کسی کو بتایا ہوگا تو اپنے بیٹوں کو بتایا ہوگا۔آپ ان کے پاس جائیں اور کہیں کہ وہ نسخہ آپ کو بتادیں۔چنانچہ وہ میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔عبدالحی مرحوم ان دنوں زندہ تھے۔وہ جاتے ہی ان سے کہنے لگے کہ لائیے نسخہ۔انہوں نے کہا۔نسخہ کیسا۔کہنے لگے وہی کیمیا کا نسخہ جو آپ کے والد صاحب جانتے تھے۔اب وہ حیران کہ میں اسے کیا کہوں۔آخر انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مجھے کسی نسخے کا علم نہیں۔اس پر وہ ناکام ہو کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔باپ والا بجل بیٹے میں بھی موجود ہے۔میں نے کہا کہ آپ جانیں کہ وہ بخیل ہیں یا نہیں۔مگر میں ان کے جس حصے کا خلیفہ ہوں۔وہی مجھے ملا ہے اور کچھ نہیں ملا۔اسے