حیاتِ نور — Page 612
ـور کیا حضرت خلیفۃ المسیح کو کیمیا کا نسخہ آتا تھا اسی طرح جلسہ سالانہ کی ایک تقریر میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ اول کے متعلق یہ بات مشہور تھی اور آپ خود بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جب بھی روپیہ کی ضرورت ہو۔اللہ تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے روپیہ بھجوا دیتا ہے۔ایک دفعہ کسی نے آپ کے پاس بتیس روپے بطور امانت رکھے۔جو کسی ضرورت پر آپ نے خرچ کر لئے۔چند دنوں کے بعد وہ شخص آیا۔اور کہنے لگا کہ میری امانت مجھے دے دیجئے۔مگر آپ نے فرمایا۔ذرا ٹھہر جائیں۔ابھی دیتا ہوں۔دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ باہر سے ایک مریض آیا۔اور اس نے فیس کے طور پر آپ کے سامنے کچھ روپے رکھ دیئے۔حافظ روشن علی صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے۔انہیں حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے کہ یہ روپے گن کر اس شخص کو دیدیں۔انہوں نے روپے لے کر گن دیئے اور رسید لے کر پھاڑ دی۔بعد میں ہم نے حافظ روشن علی صاحب سے پوچھا کہ کتنے روپے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جتنے روپے وہ مانگتا تھا۔بس اتنے ہی روپے تھے۔تو اللہ تعالیٰ عجیب و غریب رنگ میں آپ کی مددفرمایا کرتا تھا۔اور بسا اوقات نشان کے طور پر آپ پر مال و دولت کے عطایا ہو جایا کرتے تھے۔ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ سب دعا کی برکات ہیں۔مگر بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے تھے کہ آپ کو کیمیا کا نسخہ آتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جب وفات پاگئے تو دہلی کے ایک حکیم صاحب میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ میں آپ سے الگ ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ میں نے انہیں موقع دید یا۔وہ پہلے تو مذہبی رنگ میں باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے کہ آپ کے والد صاحب کو خدا تعالیٰ نے بڑا درجہ بخشا ہے۔اور وہ خدا تعالیٰ کے مامور تھے اور جسے خدا تعالیٰ نے مامور بنا دیا ہو اس کا بیٹا بھلا کہاں بخیل ہو سکتا ہے۔مجھے آپ سے ایک کام ہے اور آپ اس معاملہ میں میری مدد کریں اور بخل سے کام نہ لیں۔میں نے کہا فرمائیے کیا کام ہے۔وہ کہنے لگے مجھے کیمیا گری کا بڑا شوق ہے اور میں نے اپنی تمام عمر اس میں برباد کر