حیاتِ نور — Page 607
اتِ نُـ ۶۰۲ صاحب کو اس طرح ادب اور محبت سے مخاطب کیا ہو ا تھا جس طرح کسی بڑے بزرگ کو مخاطب کیا جاتا ہے۔مجھے اس وقت خیال آیا کہ اوہو! حضرت میاں صاحب کا اتنا بڑا مقام ہے۔اس خط کا یہ مضمون تھا کہ بازار میں بعض احمد یوں کے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کر دئے۔اسی طرح لاہور کے ایک دوست شوق محمد صاحب عرائض نویس بیان کرتے ہیں کہ 1903ء میں میں قادیان میں بغرض تعلیم مقیم تھا۔میں نے اپنے زمانہ قیامِ دار الامان میں متعدد بار دیکھا کہ حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بچپن میں ہی چلتے وقت نہایت نیچی نظریں رکھا کرتے تھے۔اور چونکہ آپ کو آشوب چشم کا عارضہ عموما رہتا تھا اس لئے کئی بار میں نے حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو خود اپنے ہاتھ سے آپ کی آنکھوں میں دوائی ڈالتے دیکھا۔وہ دوائی ڈالتے وقت عموماً نہایت محبت اور شفقت سے آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا کرتے۔اور رخسار مبارک پر دست مبارک پھیرتے ہوئے فرمایا کرتے۔میاں تو بڑا ہی میاں آدمی ہے۔اے مولا! اے میرے قادر مطلق مولا ! اس کو زمانہ کا امام بنادے۔بعض اوقات فرماتے۔اس کو سارے جہان کا امام بنا دے۔مجھ کو حضور کا یہ فقرہ اس لئے چھتا کہ آپ کسی اور کے لئے ایسی دعا نہیں کرتے صرف ان کے لئے دعا کرتے ہیں چونکہ طبیعت میں شوخی تھی۔اس لئے میں نے ایک روز کہہ ہی دیا کہ آپ میاں صاحب کے لئے اس قدر عظیم الشان دعا کرتے ہیں، کسی اور کے لئے اس قسم کی دعا کیوں نہیں کرتے۔اس پر حضور نے فرمایا۔اُس نے تو امام ضرور بنتا ہے۔میں تو صرف حصول ثواب کے لئے دعا کرتا ہوں۔ورنہ اس میں میری دعا کی ضرورت نہیں۔میں یہ جواب سن کر خاموش ہو گیا۔۳۰ ایسا ہی ایک غیر احمدی دوست سید صادق علی شاہ صاحب گیلانی ریلوے سٹیشن پشاور شہر جو ۱۹۰۸ء سے لے کر 191ء تک قادیان میں بغرض حصول تعلیم مقیم رہے انہوں نے ایک دفعہ اس زمانہ کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ایک دن جب مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ) گھوڑی