حیاتِ نور

by Other Authors

Page 606 of 831

حیاتِ نور — Page 606

کے پیچھے بیٹھ جاتے۔حضرت خلیفہ المسیح جب آپ کو دیکھتے تو جس گدیلے پر آپ بیٹھے ہوتے۔اس میں سے آدھا خالی کر کے فرماتے میاں آگے تشریف لائیے۔اس پر حضرت میاں صاحب آپ کے ارشاد کی تعمیل میں آپ کے پاس بیٹھ جاتے۔آپ کے دوسری طرف حضرت میاں بشیر احمد صاحب بیٹھا کرتے تھے۔ایک دن جب کہ حضور سور محل کا درس دے رہے تھے۔اور آیت لاتكونوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزُلَهَا کا درس تھا تو حضرت خلیفہ اول نے حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب سے کہا میاں! میں آپ کا امتحان لینا چاہتا ہوں۔آپ اس آیت کا مطلب بتائیں۔اس پر حضرت صاحبزادہ میاں صاحب نے آہستگی سے کچھ اس کی تشریح بیان فرمائی جسے سن کر حضرت خلیفہ اول نے حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب کی طرف منہ کر کے فرمایا کہ میاں محمود احمد صاحب تو پاس ہو گئے ہیں اب آپ کا امتحان باقی ہے“۔محترم مولانا ظہور حسین صاحب کا بیان ختم ہوا۔اس موقعہ پر خاکسار کو ایک بات یاد آئی۔جو حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ نے کئی مرتبہ اپنے خطبات میں بیان فرمائی ہے کہ بعض اوقات جب بیٹھے بیٹھے حضور کی طبیعت خراب ہو جاتی تو آپ فرماتے کہ اب احباب تشریف لے جائیں اس پر اکثر احباب چلے جاتے مگر چند دوست پھر بھی بیٹھے رہتے۔حضور فرماتے۔اب نمبر دار بھی چلے جائیں۔اس پر وہ لوگ بھی اٹھ جاتے لیکن جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ اٹھنے لگتے تو حضور فرماتے۔میاں آپ مراد نہیں ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی نظر میں حضرت میاں صاحب کا مقام مولانا صاحب موصوف ہی کا بیان ہے کہ ایک دن جب حضور درس دے چکے۔تو مجھے فرمایا کہ تم بیٹھے رہو۔آپ نے ایک خط لکھا۔اور سادہ لفافہ میں ڈال کر فرمایا کہ میاں محمود احمد صاحب کو دے آؤ۔میں نے وہ خط لے لیا۔جب میں مسجد مبارک کے نیچے مسقف حصے پر پہنچا تو میرے دل میں خیال آیا کہ میں پڑھ تو لوں کہ کیا لکھا ہے۔جب میں نے پڑھا۔تو میری حیرانی کی حد نہ رہی کہ حضرت خلیفہ المسیح نے حضرت میاں ـور