حیاتِ نور

by Other Authors

Page 603 of 831

حیاتِ نور — Page 603

۵۹۸ نہیں کرتا۔پھر کچھ لوگ چلے آتے ہیں۔وہ رات کے کپڑے، کتاب، قرآن سب سے محروم رہتے ہیں۔چند روز بھٹک کر تم کو بددعائیں دیتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔میں نے چند آدمیوں سے ایک دن کہا تھا کہ اس قسم کے آمادہ لوگوں کے لئے کوئی تجویز کرو۔انہوں نے ایک کمیٹی بھی بنائی۔مگر صرف مجھ کو خبر پہنچانے کے لئے کہ ہم نے کمیٹی بنائی ہے۔عمل کرنے کے لئے نہیں۔دعا کرو کہ یہاں کے رہنے والوں کے دل دردمند ہوں۔جو یہاں آئیں وہ ابتلاء میں نہ دل دردمند آئیں۔10 حضرت صاحبزادہ صاحب اور آپ کے ہمراہیوں کی سفر حج سے کامیاب مراجعت اور جماعت کا استقبال حضرت صاحبزادہ صاحب اور آپ کے ساتھیوں کا مقدس قافلہ ۲ فروری ۱۹۱۳ ء کو بروز اتوار بارہ بجے دن کے بعد لاہور پہنچا اور وہاں رات بھر قیام فرما کر صبح امرتسر کی طرف روانہ ہوا۔لاہور کی جماعت نے نہایت اخلاص اور تپاک سے استقبال کیا اور خدمت کا حق ادا کیا۔بعض تو قصور اور رائے ونڈ تک استقبال کے لئے گئے تھے اور بعض مشایعت کے لئے دارالامان تک ہمراہ آئے۔امرتسر میں قریب تین گھنٹے قیام رہا۔اور جماعت امرتسر نے حضرت صاحبزادہ صاحب والا تبار اور آپ کے ہمراہیوں کی خاطر و مدارات میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا۔امرتسر سے روانہ ہو کر بٹالہ پہنچے۔بٹالہ میں حضرت ام المومنین معہ چند خدام وممبران خاندان اپنے لخت جگر کو لانے کے لئے تشریف فرما تھیں اور بہت لوگ جماعت دارالامان سے وہاں پہنچے ہوئے تھے۔راستے میں موضع بدر دیوان کے تکیہ کی مسجد میں نماز ادا کی گئی۔اور وہاں سے روانہ ہو کر جب نہر پر پہنچے۔تو اس جگہ پر کئی سو طالب علم مدرسہ تعلیم الاسلام و مدرسہ احمدیہ کے استقبال کے لئے پرہ باندھے کھڑے تھے اور معزز مدرسین اور اکثر احباب جماعت قادیان بھی وہاں جمع تھے۔سب نے جوش اخلاص سے اہلاً و سہلاً و مرحبا کہا اور اہل مدرسہ کی طرف سے وہاں ٹی پارٹی دی گئی۔اس جگہ سے دارالامان تک تمام سڑک جماعت کے ان احباب سے بھری ہوئی تھی جو آپ کے انتظار میں چشم براہ تھے۔اور شہر کے باہر ڈھاک کے درختوں کے متصل حضور خلیفتہ المسیح اور نواب صاحب تشریف فرما تھے۔جب حضرت صاحبزادہ صاحب وہاں پہنچے تو حضرت خلیفہ المسیح اور حضرت