حیاتِ نور — Page 602
۵۹۷ اتِ نُـ ور کہتا ہوں کہ میں نے خود ایسے فرشتوں کو دیکھا ہے۔اور انہوں نے ایسی مدد کی ہے کہ عقل فکر ، وہم میں نہیں آسکتی اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ دیکھو ہم کس طرح اس معاملہ میں تمہاری مدد کرتے ہیں۔پھر آپ نے كُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ کی تشریح کرتے ہوئے صحابہ کرام کی کامیابیوں کا تذکرہ فرمایا اور احباب کو تلقین کی کہ لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ انْتُمُ مُسْلِمُون فرمانبردار ہو کر مرو۔ایسا ہی وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا پڑھ کر باہمی محبت و الفت اور اتفاق و اتحاد پر زور دیا۔اور باہمی دشمنی اور عداوت اور تفرقہ کو چھوڑنے کی نصیحت کی۔اپنا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: جب دنیا کے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہم نے تم کو نمبر دار بنایا ہے۔آپ کا ماہوار خرچ کیا ہوگا؟ میں نے کہا۔اے مولی ! تو نے مجھے کبھی کسی کا محتاج نہیں بنایا۔اور موت کے قریب بندوں کا محتاج بناتے ہو۔مجھے کو بڑا مزا آیا۔جبکہ میں نے ایک آدمی سے کچھ مانگا۔چند عرصہ کے بعد اس نے کہا۔میں تو بھول ہی گیا۔میرا ایمان بہت بڑھ گیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا ہی فضل کیا ہے اور وہاں سے رزق دیا جہاں میرا وہم و گمان بھی نہ تھا۔باقی یہ کہ میں دو چار عربی کے رزق دیا جار فقرے اور ضرب المثلین بیان کروں۔اس کی ضرورت نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تم دین کو دنیا پر مقدم کرو۔لالچ ، دعا ، شرارت بالکل نہ کرو۔ایام جلسہ میں خطبہ جمعہ ، ۲۷ / دسمبر ۱۹۱۲ء ایام جلسه ۱۹۱۲ ء میں ۲۷ / دسمبر کو حضرت خلیفہ المسیح نے مسجد نور میں خطبہ جمعہ پڑھا۔جس میں سورۃ والعصر کی تفسیر بیان کرتے ہوئے وتواصوا بالعمر کی ذیل میں فرمایا: یہ مسجد (نور) میرے نام پر بنی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں۔یہ کس قدر تنگ ہے۔اس مسجد نور کو بڑھاؤ۔مگر نیکی کے لئے۔اس میں مدرسہ بناؤ مگر قرآن شریف کا۔ایک مدرسہ (تعلیم الاسلام ہائی سکول) یہاں ہے۔اس کی طرف تو ہمارے دوستوں کی بھی بہت توجہ ہے۔گورنمنٹ بھی مدد دیتی ہے۔اس کے لئے ہر قسم کا سامان اور مکان بھی اچھا ہے۔مگر مدرسہ احمدیہ کے لئے کوئی نگران تک بھی نہیں۔کوئی اس طرف توجہ نہیں کرتا۔لڑکوں کی کتابوں اور کپڑوں تک کی بھی پروا