حیاتِ نور

by Other Authors

Page 594 of 831

حیاتِ نور — Page 594

۵۸۹ کام کے لئے ولایت جا رہے ہیں۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط اور خلاف واقعہ تھی۔بہر حال خواجہ صاحب گئے تو ایک پرائیویٹ کام کے لئے تھے مگر چونکہ احمدیت کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے وہ تبلیغ کے کام کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتے تھے۔اس لئے اتفاق ایسا ہوا کہ ایک ہندوستانی مسلمان کی یورپین بیوی جو پہلے ہی اسلام کے قریب تھی۔اس نے خواجہ صاحب کے سمجھانے پر اسلام کا اعلان کر دیا۔بس پھر کیا تھا۔خواجہ صاحب کی اس کامیابی پر خود خواجہ صاحب نے بھی اور آپ کے ساتھیوں نے بھی یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ خواجہ صاحب کو یہ کامیابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کشف کے مطابق حاصل ہوئی ہے۔جو حضور کی کتاب ازالہ اوہام جلد ۲ میں درج ہے۔جس میں ولایت کے سفید پرندوں کے پکڑنے کا ذکر ہے۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس عورت کے مسلمان ہونے کا اس کشف سے قطعا کوئی تعلق نہیں تھا۔کیونکہ کشف سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پرندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پکڑے ہیں۔مگر خواجہ صاحب نے تو اسے غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی نہیں بتایا تھا۔کیونکہ انہوں نے اس کا میابی کو مسلمانوں سے چندہ جمع کرنے کا ایک ذریعہ بنا لیا تھا۔اور ظاہر ہے کہ غیر احمدی مسلمان کبھی کسی احمدی کو اس امر کے لئے چندہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ وہ لوگوں کو احمدی بنا ئیں۔دوسرا ذریعہ خواجہ صاحب نے اپنی شہرت کے لئے یہ اختیار کیا کہ انہی ایام میں انہیں ایک پرانے مسلمان لارڈ ہیڈلے مل گئے۔جو قریباً چالیس سال سے مسلمان تھے۔مگر انہیں کوئی ایسی سوسائٹی نہیں ملی تھی۔جس کے ذریعہ سے وہ اپنے اسلام کا عام اعلان کرتے۔چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں: ”میرے موجودہ اعتقادات میری کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیش کا نتیجہ ہیں۔تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ساتھ مذہب کے بارے میں میری اصل مخط و کتابت چند ہی ہفتے قبل شروع ہوئی اور یہ بات میری دلی خوشی اور مسرت کا باعث ہوئی کہ میرے تمام خیالات اسلام کے عین مطابق نکلے۔میرے دوست خواجہ کمال الدین صاحب نے ذرہ بھر کوشش مجھے اپنے زیر اثر لانے کے لئے نہیں کی۔13 اب لارڈ ہیڈلے کے اسلام کی کیفیت بھی سنیئے۔لارڈ ہیڈلے کا اسلام لارڈ موصوف نے کسی میٹنگ کی صدارت کی۔اور صدارتی تقریر رسالہ اسلامک ریویو" یعنی مسلم انڈیا لنڈن (بابت ماہ جنوری 1919ء) میں طبع کروائی۔اس تقریر میں آپ فرقوں کی عبادات اور