حیاتِ نور

by Other Authors

Page 570 of 831

حیاتِ نور — Page 570

۵۶۵ میں کسی کا خوشامدی نہیں۔مجھے کسی کے سلام کی بھی ضرورت نہیں۔اور نہ تمہاری نذور اور پرورش کا محتاج ہوں۔اور خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ ایسا و ہم بھی میرے دل میں گزرے۔اللہ تعالیٰ نے مخفی در مخفی خزانہ مجھے دیا ہے۔کوئی انسان اور بندہ اس سے واقف نہیں۔میری بیوی اور بچے تم میں سے کسی کے محتاج نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ ان کا کفیل ہے۔تم کسی کی کیا کفالت کرو گے۔وَاللهُ الْغَنِيُّ وَ انْتُمُ الْفُقَرَاءُ جو سنتا ہے وہ سن لے اور خوب سن لے اور جو نہیں سنتا۔اس کو سننے والے پہنچا دیں کہ یہ اعتراض کرنا کہ خلافت قدار کو نہیں پہنچی۔رافضیوں کا عقیدہ ہے۔اس سے تو بہ کر لو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا۔خلیفہ بنا دیا۔جو اس کی مخالفت کرتا ہے۔وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔فرشتے بن کر اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔ابلیس نہ بنو۔مسئله اکفار "" دوسرا مسئلہ جس پر اختلاف ہوتا ہے وہ اکفار کا مسئلہ ہے۔اپنے مخالفوں کو کیا سمجھنا چاہئے؟ اس مسئلہ کے متعلق تم آپس میں جھگڑتے ہو۔سنو! ہر نبی کے زمانہ میں لوگوں کے کفر اور ایمان کے اصول کلام الہی میں موجود ہیں۔جب کوئی نبی آیا اس کے ماننے اور نہ ماننے والوں کے متعلق کیا دقت رہ جاتی ہے ؟ سچا پیچی کرنی اور بات ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے کفر، ایمان اور شرک کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔پہلے نبی آتے رہے۔ان کے وقت میں دو ہی تو میں تھیں۔ماننے والے اور نہ مانے والے۔کیا ان کے متعلق کوئی شبہ تمہیں پیدا ہوا اور کوئی سوال اٹھا کہ نہ ماننے والوں کو کیا کہیں ؟ پیر "جیسا کہ ابھی میں نے کہا۔یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو۔یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہئے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے خلیفہ اسی سلسلہ میں ایک اور واقعہ کا ذکر کر دینا بھی خالی از ویچی نہیں ہوگا جس میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق یہی انداز جواب اختیار کیا اور مخالف مولوی سخت شرمندہوا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ (بقیہ اگلے صفحہ پر )