حیاتِ نور — Page 569
ـاتِ رُ ـور ۵۶۴ کو کہہ دیں۔پھر خسر کی حیثیت سے ناصر نواب صاحب کا حق ہے یا ام المؤمنین کا حق ہے جو حضرت صاحب کی بیوی ہیں۔یہی لوگ ہیں جو خلافت کے حق دار ہو سکتے ہیں۔مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو لوگ خلافت کے متعلق بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا حق کسی اور نے لے لیا ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کے سب میرے فرمانبردار اور وفادار ہیں اور انہوں نے اپنا دعویٰ ان کے سامنے پیش نہیں کیا۔مرزا صاحب کی اولا د دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیارا محمود، بشیر، شریف، نواب ناصر، نواب محمد علی خاں کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ میں امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں کہ ان کو خدا کی رضا کے لئے محبت ہے۔بیوی صاحبہ کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں۔میاں محمود بالغ ہے۔اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ سچا فرمانبردار نہیں۔معمر نہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میر اسچا فرمانبردار ہے ایسا فرمانبردار کہ تم ( میں سے ) ایک بھی نہیں۔جس طرح پر علی، فاطمہ ، عباس نے ابو بکر کی بیعت کی تھی۔اس سے بھی بڑھ کر مرزا صاحب کے خاندان نے میری فرمانبرداری کی ہے اور ایک ایک ان میں سے مجھ پر ایسا فردا ہے کہ مجھے بھی وہم بھی نہیں آسکتا کہ میرے متعلق انہیں کوئی وہم آتا ہو۔سنو! میرے دل میں کبھی یہ غرض نہ تھی کہ میں خلیفہ بنتا۔میں جب مرزا صاحب کا مرید نہ تھا تب بھی میرا یہی لباس تھا۔میں امراء کے پاس گیا اور معزز حیثیت میں گیا۔مگر تب بھی یہی لباس تھا۔مرید ہو کر بھی میں اسی حالت میں رہا۔مرزا صاحب کی وفات کے بعد جو کچھ کیا خدا تعالیٰ نے کیا۔میرے وہم و خیال میں بھی یہ بات نہ تھی مگر خدا تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور اپنے مصالح سے چاہا۔مجھے تمہارا امام وخلیفہ بنا دیا۔اور جو تمہارے خیال میں حقدار تھے ان کو بھی میرے سامنے جھکا دیا۔اب تم اعتراض کرنے والے کون ہو؟ اگر اعتراض ہے تو جاؤ خدا پر اعتراض کرد۔مگر اس گستاخی اور بے ادبی کے وبال سے بھی آگاہ