حیاتِ نور — Page 565
ـور ۵۶۰ صبح کو پورا ہوا۔بیوی معرکۃ الآرا لیکچر ہے جس میں منکرین خلافت کے اعتراضات کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں۔۷ ارجون کو یعنی اسی روز تین بجے بعد دو پہر حضور لاہور سے امرتسر تشریف لائے۔امرتسر میں بابو صفدر جنگ صاحب پنشنز کے مکان پر چند گھنٹے قیام رہا۔جہاں حضرت صاحب نے سورۃ والعصر کی ایک لطیف تغییر کی۔۱۸ار جون کا دن احباب بٹالہ کے اصرار کی وجہ سے بٹالہ میں گزارا۔بٹالہ میں بھی آپ نے ایک تقریر فرمائی۔جس میں قرآن کریم کے سیکھنے اور اس کی تبلیغ کی طرف توجہ دلائی۔۱۳ اور ۱۹ جون کی صبح کو قادیان واپس تشریف لے گئے اور باوجو د سفر کی تکالیف کے درس کا سلسلہ پھر شروع فرما دیا۔کیونکہ یہی آپ کی روحانی غذا ہے۔کیا خوب کہا ہے۔سیف کشمیری نے چودا د درس کلام مجید صبح و مسا ہماں غذاو ہماں شدہ طعام نور الدین ۱۳۱ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت ام المؤمنین اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اس قافلہ کے ساتھ واپس قادیان تشریف نہیں لے گئے بلکہ لاہور میں ہی ٹھہر گئے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف تو چند روز بعد واپس قادیان تشریف لے گئے۔مگر حضرت ام المؤمنین اپنے بھائی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے ساتھ سرسہ تشریف لے گئیں۔۱۳۴ اس تقریب کی یاد میں کتبہ اس امر کا ذکر کرنا بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ اس تقریب کی یادگار کے طور پر جو کتبہ جناب شیخ رحمت اللہ صاحب نے اپنی بلڈنگ واقعہ مال روڈ کے برآمدے میں لگوایا۔اس پر مندرجہ ذیل الفاظ کنندہ ہیں۔لا قوة ما شاء الله بالله دار الرحمت جس کا سنگ بنیاد حضرت خلیفہ اسی مولوی حکیم نور الدین صاحب نے ۵ ارجون ۱۹۱۲ء مطابق ۲۸ ؍ جمادی الثانی ۱۳۳۰ مج رکھا