حیاتِ نور — Page 563
00A یعقوب بیگ صاحب کی کوٹھی پر تھا۔جو اس احاطہ کے اندر تھی۔حضور کے لاہور تشریف لے جانے کا اعلان چونکہ دو ہفتے قبل اخبار میں ہو چکا تھا۔اس لئے باہر سے بھی کافی تعداد میں احباب جمع ہو گئے تھے۔لاہور پہنچ کر سب سے پہلے حضور مسجد میں داخل ہوئے۔دو نفل نماز ادا کی اور بانیان مسجد اور ان کی اولا د در اولاد کے واسطے بہت دعائیں کیں۔اس کے بعد اسی دن شام کو 4 بجے سب دوست جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کی زمین پر جمع ہوئے اور شیت بنیاد رکھی گئی۔اینٹ رکھنے سے قبل حضور نے ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔جسے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے قلمبند کر لیا تھا۔اس تقریر کا خلاصہ درج ذیل ہے۔فرمایا: ”میرے آقا میرے محسن ( حضرت مسیح موعود ) نے شیخ صاحب ( شیخ رحمت الله صاحب) سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی عمارت کی بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھیں گے۔اللہ تعالیٰ کا منشاء ایسا ہی ہوا کہ آپ کے اس وعدہ کی تعمیل آپ کا ایک خادم کرے۔شیخ صاحب نے لکھا کہ تم آؤ۔میں بیمار ہوں اور بعض اعضاء میں درد کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے۔مگر میرے دل میں جوش ہے۔اپنے پیارے کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری کرنا چاہتا ہوں۔۔۔اس عمارت کے ارد گرد بھی تازہ عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور بن رہی ہیں۔مگر اس عمارت کے ساتھ ہمارا ایک خاص تعلق ہے۔اور یہ تعلق شخصی بھی ہے اور قومی بھی شخصی تو یہ کہ حضرت صاحب نے وعدہ فرمایا تھا کہ اس عمارت کی بنیاد رکھیں اور حضرت صاحب کا ایک خادم اس وعدہ کو پورا کر دے۔قومی تعلق یہ ہے کہ اس عمارت میں ہماری قوم کا بھی ایک حصہ ہے۔اس لئے قوم کو چاہئے کہ درددل سے دعا کرے کہ انجام بخیر ہو اور اس مکان میں جو بسنے والے ہوں۔جو اس کے مہتمم ہوں وہ راستباز ہوں۔اور نیکی سے پیار کریں۔۔۔میں نے کہا ہے کہ ساری قوم کا اس عمارت میں حصہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ درد دل سے دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کو با برکت کرے اور شیخ صاحب جن کو ہم سے محبت ہے ان کی اولاد کو بھی ہمارے ساتھ ویسی ہی محبت د نوٹ از ایڈیٹر ) حضرت خلیفہ ہی مدظلہ العالی کا اشارہ اس وصیت کی طرف ہے جو شیخ صاحب نے اپنی جائیداد کے متعلق کی ہوئی ہے کہ اس کا تیسرا حصہ قومی خدمات کے لئے ہوگا۔