حیاتِ نور

by Other Authors

Page 37 of 831

حیاتِ نور — Page 37

۳۷ پ طالب علمی زمانہ کے بعد کسی وقت ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ لے گئے اور اگر چہ اب۔۔۔۔۔میری عمر پڑھنے کی نہیں رہی لیکن اگر آپ صرف دو تین ہی سوالات کا جواب دیدیں تو آپ کا شاگر دضرور بن جاؤں گا۔کہنے لگے کہ بہت اچھا۔جب میں نے سوال کیا تو کہنے لگے کہ اس میں بڑا بکھیڑا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ سوال آپ کے وقت کا ہے آپ ہی اس کا جواب دیں۔نہ یہ ہمارے وقت کا ہے اور نہ ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں۔پھر میں نے ایک اور سوال کیا تو کہا اس میں اس سے بھی بڑھ کر جھگڑا ہے اور کہا کہ اچھا یہ سوال نہیں کوئی اور سوال کرو۔جب تیسر اسوال کیا۔تو صاف کہ دیا کہ ہمیں اس کا جواب نہیں آتا۔20 ان سوالات کا بھی ذکر حضرت خلیفہ اسح الاول نے کسی جگہ فرمایا ہے مگر اس وقت ان کا حوالہ نہیں مل سکا۔البتہ ایک سوال ان میں سے یہ تھا کہ وہ گرگٹ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے جلائی گئی آگ میں پھونکیں مار کر اسے تیز کرتا تھا وہ تو مر چکا۔اب جو گرگٹ موجود ہیں ان کا کیا قصور؟ انہیں کیوں ستایا جائے شہم اس قسم کے دو اور سوالات تھے جن کا جواب مولوی سید نذیر حسین صاحب نہ دے سکے۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ذکر یہ ہو رہا تھا کہ جب میرٹھ اور دہلی میں آپ کی تعلیم کا انتظام نہ ہو سکا تو آپ عازم بھو پال ہو گئے۔روئداد سفر بھوپال بھو پال جاتے ہوئے جب آپ گوالیار پہنچے تو وہاں حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے محبت یافتہ ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔آپ کو ان کی صحبت میں کچھ ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ آپ وہیں رہ پڑے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب انہوں نے مجھے۔۔باتیں کرتے ہوئے یہ دو شعر پڑھے کہ نہ کر عوض میرے عصیان و جرم بیحد کا کہ تیری ذات غفور الرحیم کہتے ہیں کہیں نہ کہدے عدود یکھ کر مجھے غمگیں یہ اس کا بندہ ہے جس کو کریم کہتے ہیں۔تو مجھ پر اس قدراثر ہوا کہ حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری فرماتے ہیں کہ سید اشعار در اصل یوں ہیں۔نہ کر عوض میرے جرم و قصور بیحد کا اچھی تجھ کو فخور الرحیم کہتے ہیں کے عدد نہ کہیں دیکھ کر مجھے حتاج یہ اس کا بندہ ہے جس کو کریم کہتے ہیں