حیاتِ نور — Page 502
۴۹۸ ذَلِكَ لَرَّحْمَةً وَّ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔مخدوم صاحب کے تین مرتبہ پڑھنے کے بعد فرمایا۔اللہ پاک اس آیت میں تمام منازل سلوک کے لئے فرماتا ہے۔کیا ان کو یہ کتاب (قرآن کریم ) جو ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے۔کافی نہیں۔مومنوں کے لئے اس میں رحمت ہے اور اسی میں تمام ذکر ہیں۔فرمایا میں نظارہ ہائے قدرت اور کشوف کے طریقے خوب جانتا ہوں۔مگر اس شہادت خداوندی کے بعد سلوک کے اور طریقوں کو اختیار کرنا میں کفر جانتا ہوں۔اس قسم کی راہوں کو جو گیانہ طریقے سمجھتا ہوں۔تم سب گواہ رہو۔میں مرجاؤں تو میری یہ نصیحت یادرکھنا۔اگر کوئی خیال اس کے خلاف اٹھے۔تو لاحول پڑھنا۔شاہ عبدالعزیز کے ایک بھائی تھے۔جن کا نام تھا محمد۔ان کی ایک بیوی تھی۔ام حبیبہ ان کا نام تھا۔انہوں نے بہت ہی کثرت سے اور اد اور اذکار شروع کر دیئے حتی کہ کچھ دنوں کے بعد نفلوں کی جگہ بھی انہوں نے وظیفے ہی (شروع) کر دیئے۔ایک دن ان کے میاں نے کہا کہ تم ہر روز ذکر کیا کرتی ہو۔لاحول کا ذکر بھی کر دیکھو۔انہوں نے مان لیا اور شروع کر دیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنے مصلے پر ہنومان کی شکل میں بندر کو دیکھا اور اس نے کہا کہ جس راہ پر میں نے تم کو ڈالا تھا۔وہ کیوں چھوڑ دی۔اس کے بعد ان کے میاں آئے۔اور انہوں نے پوچھا۔بیوی صاحبہ! تم نے آج کچھ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔میں آئندہ تو بہ کرتی ہوں۔پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی ایک اور شہادت پڑھو۔جو ابتدائے قرآن مجید میں ہے۔الم۔ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ فرماتا ہے۔میں اللہ خوب جاننے والا یہ شہادت دیتا ہوں کہ جس قدر لوگ متقی بنے ہیں۔اسی راہ سے متقی بنے ہیں۔علم تو مجھے کو ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ یہی کتاب ذریعہ ہے متقی بننے کا۔خدا تعالیٰ کی یہ دوسری گواہی ہے۔یہ بات میں تم کو خدا کی تحریک سے کہتا ہوں۔احادیث میں آیا ہے۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی قسم کے آعوذ پڑھتے تھے۔مگر جب قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ تازل ہوئیں۔تو آپ نے معوذتین کے سوا سب ذکر چھوڑ دیئے۔پھر فرمایا۔اتنی ہی