حیاتِ نور — Page 482
ـور بہر حال میں اس کی دیانت پر ایمان لایا۔اس ذکر میں پھر دیر تک اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے رہے۔اس واقعہ نے بتادیا کہ کس طرح پر اللہ تعالیٰ آپ کی دستگیری لہ فرماتا ہے۔لا خلیفہ اسیح کی عالی خیالی جناب ایڈیٹر صاحب اس عنوان کے ماتحت لکھتے ہیں: حضرت کی اس علالت کے ایام میں اگر خلیفہ المسیح کی ضروریات اور اخراجات معالجہ انجمن دیتی۔تو ایسا خرج برمحل اور جائز ہوتا اور قوم اپنی سعادت بجھتی کہ ان کا روپیہ بہترین مقام پر خرچ ہوا ہے۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ ایک کثیر تعداد ایسے آدمیوں کی ہے۔جن کی زندگی کے بدلے اگر حضرت کی حیات دراز ہو سکے۔تو وہ دینے کو تیار ہیں۔بعض کو تو میں نے ایسا ذکر کرتے یہاں بھی سنا اور اگر ہزاروں نہیں لاکھوں روپے کے صرف سے بھی اس بزرگ کی صحت و تن درستی بحال رہے۔تو اس کے خرچ کر دینے کو قوم موجود اور پھر بھی حضرت خلیفہ المسیح پر کسی کا احسان نہ ہو۔اور قوم اپنا فرض ادا کرے۔مگر میں آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح کی عالی ہمتی اور بلند نظری کی ایک بات سناتا ہوں۔یہ واقعات آپ کی پاک سیرت کا جزو ہیں۔اور مجھے موقعہ ملا ہے کہ جستہ جستہ واقعات بیان کر دوں پہلے ہی سے آپ کا ہمیشہ ہی مل ہے کہ آپ کھانا تک جو گھر میں پکا یا گیا ہو مانگ کر نہیں لیتے اور یہ کوئی نیا معمول نہیں۔بلکہ اپنی والدہ ماجدہ مرحومہ کی زندگی میں جبکہ آپ بچے تھے یہی طرز عمل تھا۔اس خصوص میں آپ کے بہت سے واقعات ہیں۔جو حیات نور کا جز و انشاء اللہ ہوں گے۔ان ایام میں میں نے دیکھا ہے کہ جب آپ کے سامنے کھانا پیش کیا جاتا۔تب آپ جو کچھ کھلانے والے کھلاتے کھا لیتے۔مانگا کبھی نہیں۔مگر جو بات اس ضمن کے نیچے میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔وہ نہایت ہی عجیب ہے۔ایک دن صبح کے وقت شیخ تیمور کو پاس بلایا اور نہایت آہستگی سے ایک بات کہی۔میرا کان بھی اس طرف تھا حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیر الکلم حیات نور" کے نام سے حضرت خلیفہ مسیح الاول کے سوانح حیات لکھنا چاہتے تھے۔مگر دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس ارادہ کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔نصف