حیاتِ نور — Page 475
کی محبت کرنے والے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے محبت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور اس کے خاتم النبیین کے بچے متبع ہوں۔اور تم میں سے ایک جماعت ہو جو قرآن مجید اور سنت نبوی پر چلنے والی ہو۔اور میں دنیا سے رخصت ہوں تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور میرا دل ٹھنڈا ہو۔دیکھو میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔نہ تمہاری نذرو نیاز کا محتاج ہوں۔میں تو اس بات کا امیدوار بھی نہیں کہ کوئی تم میں سے مجھے سلام کرے۔اگر چاہتا ہوں تو صرف یہی کہ تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بن جاؤ۔اس کے محمد رسول اللہ کے متبع ہو کر دنیا کے تمام گوشوں میں بقدر اپنی طاقت وفہم کے امن و آشتی کے ساتھ لا الہ الا اللہ پہنچا ہے اس واقعہ کی تفصیل اب ہم اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔جناب ایڈیٹر صاحب الحکم کا بیان ہے کہ ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء کو بعد نماز جمعہ حضرت خلیفہ مسیح * گھوڑے پر سوار ہو کر نواب صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔نواب صاحب ۷ ارنومبر کو قادیان آئے تھے۔اس لئے حضرت از راہ محبت و شفقت جو آپ کو اپنے خدام سے ہے۔ان سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔علاوہ ازیں چونکہ حضرت مسیح موعود مغفور کی صاحبزادی نواب صاحب کے گھر میں ہے۔حضرت خلیفہ المسیح " کو میں نے دیکھا کہ وہ بنت مسیح موعود کا جائز احترام مد نظر رکھتے ہیں۔اور اس سے اس محبت کا پتہ لگتا ہے۔جو آپ کو اہل بیت حضرت خلیفتہ اللہ والمہدی سے ہے۔واپسی پر گھوڑی نہایت بیخودی اور سرکشی سے آ رہی تھی۔ملک مولا بخش صاحب رئیس گورالی بیان کرتے ہیں۔کہ گھوڑی ایسی تیز اور بے خود تھی۔اور حضرت خلیفہ المسیح ایسی قوت اور اطمینان کے ساتھ اس پر بیٹھے تھے کہ میرے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتا۔میں نے بڑے بڑے سوار دیکھے ہیں مگر حضرت کی شان اس وقت نرالی تھی۔آخر گھوڑی ایک تنگ کو چہ میں ہو کر گزری۔اور حضرت زمین پرآ رہے۔اور پیشانی میں سخت چوٹ آئی۔وو یہ پہلا موقعہ آپ کے ثبات و استقلال کے امتحان کا تھا۔حضرت نے گھوڑی ـاتِ نُــ