حیاتِ نور — Page 469
ـور ۴۶۵ آیت اللہ تھا اور اس کے ہاتھ پر کئی نشانات خدا تعالیٰ نے ظاہر کئے۔مگران لوگوں نے یقین کرنے کی بجائے ان کی صرف تکذیب ہی نہیں کی۔بلکہ اکذب الکافرین اور اکفر کہا ہے یا بعض نے کم از کم پروانہ کی۔پس یہ لوگ ہمارے امام کیونکر بن سکتے ہیں۔اس مضمون میں جن وجوہات پر علیحدگی اختیار کی گئی ہے۔ان کے پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ہم لوگ کیسے امن دوست ہیں۔اہلحدیث کے مقدمات اب تک مساجد کے متعلق چلے آتے ہیں۔لیکن ہم نے اس قسم کی سلسلہ جنبانی کر کے امن میں خلل نہیں ڈالنا چاہا اور خود ہی الگ ہو گئے۔چنانچہ ہمارے امام ہمام جری اللہ فی حلل الانبیاء نے اعلام الہی سے یہ حکم دیا جوار بعین نمبر ۳ حاشیہ صفحہ ۲۸ میں درج ہے اور جس پر پورے استقلال سے قائم رہنا ہر احمدی کو ضروری ہے۔یہ مسئلہ نہ تو مشروط بہ شرط ہے کہ اس کی تعمیل کسی خاص مدت تک محدود ہو۔نہ صرف امام کا اجتہادی مسئلہ ہے بلکہ وحی الہی سے ہے اور نہ اس کے متعلق مکروہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔نہ صرف مکذب و مکفر کے پیچھے بلکہ متردد کے پیچھے بھی منع ہے۔صرف ایک ہی صورت میں نماز جائز قرار دی ہے وہ یہ کہ بذریعہ اعلان مکفرین و مکذبین سے علیحدگی اختیار کی جاوے۔کیونکہ انہوں نے ایک برگزیدہ کی تکفیر کی۔جیسا کہ حضرت علیہ السلام کا ایک شعر ہے۔مجھ کو کافر کہتے ہیں میں بھی انہیں مومن کہوں گر نہ ہو پر ہیز کرنا جھوٹ سے دیں کا شعار پھر ( کیونکر ) جائز ہے کہ ان کی امامت میں ہم نماز پڑھ لیں۔1 جماعت کی اندرونی اصلاح کے متعلق بعض سوالات کے جوابات کسی صاحب نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر کی خدمت میں چند سوالات لکھے اور خواہش ظاہر کی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول سے جوابات حاصل کر کے بواپسی روانہ فرما دیں۔حضرت مفتی صاحب نے وہ سوالات بھی اخبار میں درج فرمائے ہیں۔اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کے جوابات بھی۔چونکہ جماعت میں آئے دن ایسے جھگڑے اب بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اس لئے