حیاتِ نور — Page 436
۴۳۲ اول رضی اللہ عنہ کی ایک چٹ ملی جس پر مرقوم تھا۔میں نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اللہ تعالیٰ نعم البدل دے گا۔ولم اکن بدعا تک رب شقیا میں کچھ حیرت زدہ ہوا کیونکہ یہ تو درست بات تھی کہ میرے دولڑ کے یکے بعد دیگرے چالیس دن کے اندر گولیکی (ضلع گجرات) میں فوت ہو چکے تھے۔جمشید سات اکتوبر ۱۹۰۸ء کو بعمر ساڑھے نو ماہ اور خورشید پلوٹھا گیارہ نومبر ۱۹۰۸ء کو بعمر ۵ سال ۸ ماہ۔مگر میں نے حضور کی خدمت میں دعا کی کوئی تحریک نہیں کی تھی۔آخر معلوم ہوا کہ میری یہ نظم والده عبد السلام مرحوم حضرت اماں جی نے گھر میں ترنم سے پڑھی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ آنکھیں بند کئے لیٹے ہوئے تھے جو نا گاہ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: الحمد للہ مجھے تو معلوم تھا اماں جی نے بتایا کہ یہ نظم اکمل صاحب کی ہے جو آپ کی شاگر دسکینۃ النساء کے شوہر ہیں۔بیچاروں کے دو بیٹے یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے ہیں۔حضرت خلیفہ اول پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ حضور کی توجہ فور ادعا کی طرف پھر گئی۔اور اس کے بعد حضور نے مجھے وہ رقعہ لکھا۔جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔اس کے بعد 1910ء میں میرے ہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے لڑکا تولد ہوا۔جس کا نام آپ نے عبدالرحمن رکھا ( جنید ہاشمی بی۔اے ) اور پونے تین سال بعد ۱۳ء میں دوسرائر کا تولد ہوا جس کا نام آپ نے عبدالرحیم رکھا ( شیلی ایم کام) اور اس طرح آپ کی دعا کی قبولیت کا ہم نے نظارہ دیکھا۔فالحمد للہ علی ذالک قبولیت دعا کا ایک اور واقعہ مکرم قاضی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی قبولیت دعا کے واقعات کے سلسلہ میں ایک اور واقعہ بھی بیان کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں : لکھنو کے شیخ محمد عمر صاحب لاہور میڈیکل میں پڑھتے تھے ( جو بعد میں ڈاکٹر محمد عمر صاحب کے نام سے سلسلہ احمدیہ کے ایک مخلص نامور ممبر جناب بابو عبد الحمید صاحب ریلوے آڈیٹر لاہور کے داماد ہوئے ) طبیعت ابتدا ہی سے