حیاتِ نور — Page 423
ساتِ نُـ ـور ۴۱۹ به دید مبدل شود و سمعی کشفی گردد۔اور فرمایا کہ بیعت کے وقت کوئی شرط بھی کرنی جائز ہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں استلُكَ مُوَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ وَاعِبُدُونِی بِكَثْرَةِ السُّجُودِ بھی آیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگر اصول اسلام سیکھنے ہوں تو چھ مہینہ رہنا ہوگا اور اگر فروعات سیکھنے ہوں تو ایک سال۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر بڑے احسانات کئے۔میں نے چار وظیفے تجربہ کئے ہیں۔استغفار، لاحول، الحمد شریف پڑھنا اور درود شریف کا ورد کرنا۔آگے ان وظائف کی لطیف تشریح بھی درج ہے مگر گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے یہاں درج نہیں کی جاسکتی۔کلام الہی سے محبت کی ایک نادر مثال حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو کلام الہی سے جو شدید اور والہانہ محبت تھی اس کی ایک مثال جناب ایڈیٹر صاحب بدر کے اس نوٹ سے ظاہر ہے جو انہوں نے مدینہ المسیح " کے نیچے اخبار ہدر" میں لکھا۔آپ فرماتے ہیں: "حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسلمین ایدہ اللہ رب العالمین بیسویں تاریخ ماہ رمضان سے مسجد مبارک میں اعتکاف بیٹھ گئے ہیں۔آپ کے ساتھ کان رسالت کا چہکتا ہوا ہیرا سید محمود بھی مختلف ہے۔مولانا کی فیض رساں طبیعت اس خلوت میں بھی جلوت کا رنگ دکھا رہی ہے۔قرآن مجید سنانا شروع کیا ہے۔صبح سے ظہر کی اذان تک اور پھر بعد از ظہر عصر تک اور عصر سے شام تک اور پھر عشاء کی نماز کے بعد تک تین پارے ختم کرتے ہیں۔مشکل مقامات کی تفسیر فرما دیتے ہیں۔سوالوں کے جواب بھی دیتے جاتے ہیں۔یہ نہ جھکنے والا دماغ خاص موہبت الہی ہے۔اس واقعہ پر غور کرو اور سوچو کہ یہ مقدس انسان قرآن کریم سے کس درجہ عشق رکھتا تھا اور تلاوت آیات اور تعلیم الکتاب کا اسے کتنا ز بر دست احساس تھا۔ستر سال کے قریب عمر، قومی رو با نحطاط اور اعتکاف بیٹھتا ہے۔دل میں تڑپ اور جوش ہے کہ ان دس دنوں کے اندر اندر لوگوں کو قرآن حکیم کے نور سے منور اور اس کے مخفی اور پوشیدہ روحانی خزائن کی تقسیم سے مالا مال کر دے۔اور اپنے مرشد و آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پاک خواہش و تمنا کو پورا کرنے والوں میں شمار کیا جائے کہ