حیاتِ نور

by Other Authors

Page 387 of 831

حیاتِ نور — Page 387

۳۸۴ حضرت خلیفہ المسیح الا ول بھی ان لوگوں کی حرکات کو خوب جانتے تھے۔آپ نے ان لوگوں کے اس حربہ کو یوں تو ڑا کہ 1990ء میں صدر انجمن کو لکھ دیا کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں۔ممبرانجمن اور صد را انجمن نہیں رہ سکتا۔میری جگہ میرزامحمود احمد کو پریذیڈنٹ مقرر کیا جاوے اور یوں ان کی اس تدبیر کو خاک میں ملا دیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ چونکہ خلیفہ وقت کے لئے پریذیڈنٹ کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے تھے۔اس لئے بعض اوقات بے خبری میں دوسرے مصنفین بھی ایسا لکھ دیا کرتے تھے۔چنانچہ محترم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل سے بھی جب ایسی غلطی ہوئی تو انہیں ایک غلطی کی تردید کے عنوان سے لکھنا پڑا کہ ۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء کے بدر میں میرا ایک مضمون بعنوان ” نکتہ چینی " چھپا ہے۔اس میں یہ بات کہ صدر انجمن احمد یہ میں امیر المومنین بحیثیت پریذیڈنٹ شامل ہیں میں نے بے خبری سے غلطی میں لکھدی ہے۔آپ امام کی زندگی میں تو پریذیڈنٹ تھے مگر جب سے خلیفہ المسیح ہوئے۔پھر پریذیڈنٹ نہیں۔ہاں آپ جیسا کہ میں نے اس مضمون میں بھی لکھا ہے تمام قوم کے مسلم امیر ہیں اور صدر انجمن ہو یا کوئی اور انجمن یا گروہ احمد یہ ان کی کثرت رائے کے فیصلہ پر آپ ایسے ہی حاکم و مختار ہیں اور ہمارے مطارع جیسے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔اس لئے میں نے لکھا تھا کہ صدر انجمن کے خلاف کوئی امر ہو تو اسے حضرت امیر المومنین ( کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔ان کا فیصلہ آخری فیصلہ سمجھا جاوے۔نظام وحدت کے قیام کے لئے یہ امر ضروری ہے کہ ہماری رائیں اور ہمارے ارادے اور ہماری تجاویز ہمارے فیصلے ایک امیر و امام کے ماتحت ہوں۔یہی میرا اور ہر احمدی کا ایمان ہے کہ اطیعو اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منكم خاکسار اكمل عفا الله عنه ۶۵ ور ایک اور فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش ۱۹۰۹ء یہ لوگ تو ہمیشہ اس قسم کے مواقع کی تاڑ میں رہتے تھے۔کہ اگر حضرت خلیفہ المسیح الاول کے خلاف فتنہ کھڑا کرنے کا کوئی موقعہ ملے تو اسے ہر گز ہا تھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔چنانچہ ابھی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ سلسلہ کے ایک نہایت ہی مخلص خادم حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب