حیاتِ نور

by Other Authors

Page 381 of 831

حیاتِ نور — Page 381

ایمان سے پُر تھے اور خدا کے وعدہ پر ان کو یقین تھا۔وہ اس مجلس کو احمدیت کی ترقی کا فیصلہ کرنے والی مجلس خیال کرتے تھے اور اس وجہ سے دنیا کی ترقی اور اس کے امن کا فیصلہ اس کے فیصلہ پر منحصر خیال کرتے تھے۔ظاہر بین نگاہیں ان دنوں پیرس میں بیٹھنے والی (PEACE) پیس کا نفرنس کی اہمیت اور شان سے حیرت میں ہیں مگر در حقیقت اپنی شان میں بہت بڑھی ہوئی وہ مجلس تھی جس کے فیصلہ پر دنیا کے امن کی بناء پڑنی تھی۔اس دن یہ فیصلہ ہونا تھا کہ احمدیت کیا رنگ اختیار کرے گی۔دنیا کی عام سوسائٹیوں کا رنگ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا رنگ ، اس دن اہل دنیا کی زندگی اور موت کے سوال کا فیصلہ ہونا تھا۔بیشک آج لوگ اس امر کو نہ سمجھیں لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ مخفی مذہبی لہر ہیبت ناک سیاسی لہروں سے زیادہ پاک اثر کرنے والی اور دنیا میں نیک اور پر امن تغیر پیدا کرنے والی ہے۔غرض لوگ جمع ہوئے اور حضرت خلیفۃ اسیح اول بھی تشریف لائے۔آپ کے لئے درمیان مسجد میں ایک جگہ تیار کی گئی تھی مگر آپ نے وہاں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا اور ایک طرف جانب شمال اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جسے حضرت مسیح موعود نے خود تعمیر کروایا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کی تقریر " پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی اور بتایا کہ خلافت ایک شرعی مسئلہ ہے۔خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔اور بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو جاوے گا تو میں اس کی جگہ ایک جماعت تجھے دوں گا۔پس مجھے تمہاری پروا نہیں۔خدا کے فضل سے میں حاشیہ۔اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسجد مبارک ابتداء بہت چھوٹی تھی۔دھوئی سے پہلے حضرت مسیح موعود نے صرف علیحدہ بیٹھ کر عبادت کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے ملحق ایک گلی پر چھت ڈال کراسے تعمیر کیا تھا۔کوئی تھیں آدمی اس میں نماز پڑھ سکتے تھے۔جب دھوئی کے بعد لوگ ہجرت ) کر کے یہاں آنے لگے اور جماعت میں ترقی ہوئی تو جماعت کے چندہ سے اس مسجد کو بڑھایا گیا۔پرانے حصہ مسجد کا نقشہ حسب ذیل ہے۔اختلافات سلسلہ کی تاریخ صفحہ ۲۷ جنوب نیا حصہ پرانا حصہ شمال ـور مشرق