حیاتِ نور — Page 361
۳۵۹ نیز فرمایا: یعنی میں نے جب کبھی کسی کو اسلام کی طرف بلایا تو اس نے تردد کیا اور اس کے قبول کرنے میں پس و پیش کیا لیکن ابوبکر کے پاس جب میں نے ذکر کیا تو آپ نے بغیر کسی تردد اور تاخیر کے اسے قبول کر لیا۔(و) إِنِّي قُلْتُ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا فَقُلْتُمُ كَذَبْتَ وَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقْتَ - ۳۵ یعنی جب میں نے کہا کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں تو تم نے کہا کہ تو جھوٹا ہے لیکن ابو بکر نے کہا کہ ہاں تو صادق () تبلیغ میں حضرت اقدس آپ کی نسبت فرماتے ہیں: میں نے دعا کی۔اے میرے رب۔اے میرے رب۔میرا کون مددگار ہو۔کون مددگار ہو۔میں اکیلا ہوں۔سو جب بار بار میں دعا کرتا رہا۔اس نے مجھے ایک صدیق دیا جو نہایت سچا تھا۔اس کا نام نورالدین ہے اور جب سے وہ میرے پاس آیا ہے میں اپنے تمام غم بھول گیا ہوں۔اس کے مال نے باقی تمام لوگوں کے اموال سے مجھے زیادہ فائدہ دیا ہے۔میں نے اس جیسا دنیا میں کوئی نہیں دیکھا ہے میں نے اسے دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ یہ خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی دعا ہے جو میں ہمیشہ کیا کرتا تھا۔اس کا دل تکبر اور خود پسندی سے مبرا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ آسمان سے اس پر نور نازل ہوتا ہے گویا کہ وہ انوار کا مہمان خانہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ قرآن شریف اس جیسا کوئی نہیں سمجھتا۔حضرت خلیفہ المسح الاول کے حق میں حضرت اقدس کی یہ تحریرات بتاتی ہیں کہ حضرت مولوی صاحب سب سے پہلے ایمان لانے کی وجہ سے صدیق بن گئے اور حضرت ابو بکر کی مثال سے ظاہر ہے