حیاتِ نور — Page 359
ـور ۳۵۷ ہوتا ہے۔مدبر سے نہیں سوچتے کیونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں“۔" مذکورہ بالا عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے بعد خلافت ہے۔اگر خلافت نہ ہوتی۔تو حضور کی اولاد میں سے کوئی شخص کس طرح اپنے وقت پر خلیفہ ہو سکتا ہے۔چہارم حضور فرماتے ہیں: " جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا میں ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔۔۔اس حوالہ میں ایک عجیب لطیفہ ہے اور وہ یہ کہ باوجود اس کے کہ حضور رسول بھی تھے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ حضور کی جماعت کا ایک گروہ حضور کی رسالت کا منکر ہو جائے گا اس لئے حضور کے ذریعہ سے اس امر کا اعلان کروا دیا کہ مشائخ کی وفات کے بعد بھی خلافت کا سلسلہ جاری ہوا کرتا ہے۔یادر ہے کہ یہ حوالہ اپریل ۱۹۰۸ ء کا ہے یعنی الوصیت سے تین سال بعد کا۔اور حضور کے وصال سے انداز آڈیڑھ ماہ قبل کا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسالہ الوصیت میں جس انجمن کو حضور نے قائم کیا ہے اس کا قیام خلیفہ کے وجود سے ہمیں مستغنی نہیں کر دیتا۔پس اس حوالہ سے رد ہو جاتا ہے ان لوگوں کا جو سمجھتے ہیں کہ انجمن کے قیام کے بعد خلافت کی ضرورت نہیں رہے گی۔پنجم اوپر کا حوالہ جس تقریر سے لیا گیا ہے وہ حضور نے اپنے وصال سے ڈیڑھ ماہ پیشتر لاہور میں فرمائی تھی جس میں فرمایا کہ لوگوں کو چاہئے کہ صدیق المشرب ہوں۔بغیر کسی طلب نشان کے ایمان لائیں۔پھر انہیں اس قدر نشان دیئے جائیں گے کہ وہ حیران رہ جائیں گے۔صوفیا نے لکھا ہے جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے۔تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے حق اس کے دل میں ڈالا جاتا ہے۔جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے۔مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سرنو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔