حیاتِ نور — Page 358
۳۵۶ ـاتِ نُـ پھر ہم کہتے ہیں کہ آئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی سے ہم اس امر کا فیصلہ کروا لیتے ہیں کہ حضور کے بعد سلسلہ احمدیہ میں خلافت قائم ہوگی یا نہیں۔سنئے۔اول گزشتہ صفحات میں رسالہ الوصیت کی عبارت سے ہم روز روشن کی طرح ثابت کر چکے ہیں کہ اپنے وصال کے بعد جس قدرت ثانیہ کی حضور نے جماعت کو خبر دی ہے اس سے مراد خلافت ہے جیسا کہ حضرت ابو بکر کی مثال سے ظاہر ہے۔دوم حضور اپنی کتاب ”حمامۃ البشری میں فرماتے ہیں: "لم يسافر المسيح الموعود او خليفة من خلفائه الى ارض دمشق۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے مستنبط ہوتا ہے کہ یا تو مسیح موعود خود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ سرزمین دمشق کی طرف سفر کرے گا۔حضور کے اس حوالہ پر غور کیا جائے تو متعدد باتیں معلوم ہوتی ہیں۔(الف) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوگا کیونکہ اگر خلافت نہ ہو تو دمشق میں سفر کرنے والے پر لفظ خلیفہ کا کس طرح اطلاق ہو سکتا ہے۔(ب) "خليفة من خلفائه“ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ کم از کم تین خلفاء تو ضرور ہونگے کیونکہ خلفاء جمع ہے جس کے لئے اقل شرط تین کی ہے۔(ج) واقعات بتاتے ہیں کہ یہ پیشگوئی نہ تو خود حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پوری ہوئی اور نہ حضرت خلیفہ اول کے ذریعہ۔پس ضروری ہوا کہ خلیفہ اول کے بعد بھی خلافت جاری رہے تا پیشگوئی پوری ہو سکے۔حدیث شریف میں مسیح موعود کے متعلق پیشگوئی ہے۔" يَتَزَوَّجُ وَ يُولَدُ لَهُ اس حدیث کی تشریف کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: اور یہ پیشگوئی کہ مسیح موعود کی اولاد ہوگی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا اس کی نسل سے ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا جانشین ہوگا“۔۲۹ اس عبارت میں بے شک لفظ خلیفہ نہیں لیکن جانشین خلیفہ کا لفظی ترجمہ ہے۔جیسا کہ حضور فرماتے ہیں: افسوس ہے کہ ایسے خیال پر جمنے والے خلیفہ کے لفظ کو بھی جو استخلاف سے مفہوم