حیاتِ نور

by Other Authors

Page 17 of 831

حیاتِ نور — Page 17

1 تھا اور میں نے اس سے اس وقت دریافت کیا تھا کہ اس عشق کا حال تم نے کسی کو بتایا ہے تو اس نے کہا تھا کہ اس کا حال یا تو اس عورت کو معلوم ہے یا تم کو یا مجھ کو یا اللہ تعالٰی کو اور کسی چوتھے انسان کو معلوم نہیں۔مرتے ہوئے جب اس نے یہ کہا تو آپ کو کہاں سے خبر ہوئی۔غرضیکہ اس عورت کا نام اس نے مجھے کو نہ بتایا۔ہمارے شہر میں ایک محلہ ہے۔وہاں کی عورتیں کسی قدر خدو خال میں اچھی ہوتی ہیں اور ان میں پردہ کا رواج بھی نہیں گو مسلمان ہیں۔اس محلہ کی عورتیں ایک روز کسی شادی میں جا رہی تھیں۔میں بھی اتفاق سے اس طرف سے گزرا ان کو دیکھ کر مجھ کو یقین ہو گیا کہ اس وقت اس محلہ کی سب عورتیں ہیں۔میں نے ان سے کہا 'مائیو! دیوار کے ساتھ مل کر ایک صف تو بناؤ۔میرے بزرگوں کی وجاہت ایسی تھی کہ انہوں نے میری بات مان لی اور سڑک کے کنارے سب ایک صف میں کھڑی ہو گئیں۔ان میں بعینہ وہی لڑکی جو میں نے رویا میں دیکھی تھی نظر آئی جو بھی کنواری ہی تھی۔میں نے ان سے کہا کہ اس کو میرے پاس بھیج دو۔چنانچہ بعض عورتوں نے اسے دھکیل کر میری طرف بھیجد یا۔جب میرے قریب آئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام مجھ کو بتا دیا۔اس کا نام دریافت کر کے میں نے اس سے کہا کہ بس اب چلی جاؤ۔کچھ دنوں کے بعد اس متوفی کا وہی دوست مجھ کو ملا۔میں نے اس سے کہا کہ تم نے تو ہمیں اس عورت کا نام نہ بتایا مگر ہم کو معلوم ہو گیا۔وہ فلاں محلہ کی لڑکی ہے اور اس کا نام یہ ہے۔وہ منکر ہکا بکا سارہ گیا اور کہا کہ ہاں یہی نام ہے مگر آپ کو کس طرح معلوم ہو گیا ؟ میں نے اس سے اپنے رویا کا ذکر نہ کیا اور نہ مناسب تھا۔اس واقعہ کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے تا معلوم ہو کہ آپ عنفوان شباب ہی سے صاحب رویا و کشوف تھے نیز اس لئے کہ جن افعال شنیعہ کا انسان یہاں مرتکب ہوتا ہے اگلے جہاں میں بھی اس کا نتیجہ اسے بھگتنا پڑتا ہے۔بھیرہ میں واپسی اور حصول تعلیم میں شغف آپ فرماتے ہیں: آخر چار برس کے بعد وہ نوکری کا تعلق خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹوٹا اور میرے