حیاتِ نور — Page 323
ـارم ۳۲۱ آپ کے درس قرآن کے متعلق ایڈیٹر صاحب بدر کے تاثرات حضرت مولوی صاحب کے درس قرآن کے متعلق پیچھے بھی ذکر آچکا ہے۔مگر ذیل میں جناب ایڈیٹر صاحب بدر کے تاثرات بیان کئے جاتے ہیں۔جو انہوں نے ۲ اپریل ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں درج کئے۔آپ لکھتے ہیں: یہ سب کچھ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے درس قرآن کی برکت اور فیض ہے کہ میں اتنا کچھ لکھ سکتا ہوں اور مجھ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ذوق ہے کہ میں اس کام میں ہاتھ ڈالنے کی جرات کرتا ہوں۔درس قرآن شریف جو روزانہ حضرت مولوی صاحب موصوف مسجد اقصیٰ میں دیا کرتے ہیں اس کی ابتدا کچھ قادیان میں نہیں ہوئی بلکہ مدت سے حضرت مولوی صاحب موصوف قرآن شریف کی اس خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔میں چھوٹا سا تھا جبکہ میں نے یہ درس جموں و کشمیر میں سننا شروع کیا تھا۔اور یہی درس ہے جس نے مجھے مسلمان کیا اور پھر یہی درس ہے جس نے مجھے احمدی کیا۔اور میں اس درس کو اس قدر متبرک پاتا ہوں کہ باوجود اتنا عرصہ سننے کے پھر بھی میں ہمیشہ اس کو اپنے واسطے نئے برکات کا موجب پاتا ہوں۔حضرت مولوی صاحب کے درس میں ہی میں نے یہ خوبی دیکھی ہے کہ بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور جوان بھی اور بوڑھے بھی بے علم بھی کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتا ہے اور عالم بھی اپنے علم میں ترقی کرتا ہے۔قادیان کی رہائش میں جو عظیم الشان نعمتیں ہم کو حاصل ہیں ان میں سے ایک درس قرآن شریف بھی ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ قائم رکھے تا کہ ہم پر اس کی برکتیں اور رحمتیں اس کے ذریعہ سے نازل ہوتی رہیں۔آمین ثم آمین۔۱۲۹ محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی جو بہت ہی مخلص اور اسلام اور احمدیت کے فدائی بزرگ ہیں ( اللہ تعالیٰ ان کی صحت اور عمر میں برکت دے ) فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت مولانا حکیم صاحب کو قرآن کریم سے اس قدر عشق تھا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کہیں سے زکوۃ کی رقم بھی مجھے مل جائے تو میں اس سے بھی صحیح اور خوبصورت قرآن مجید چھپوا کر مستحقین میں تقسیم کر دوں۔