حیاتِ نور

by Other Authors

Page 312 of 831

حیاتِ نور — Page 312

ـور پہلے سے اپنی جماعت کو اس طور سے تیار نہ کرتا کہ وہ ہمیشہ بدگوئی کے مقابل پر صبر کریں تو وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔مگر یہ صبر کی تعلیم تھی کہ اس نے ان کے جوشوں کو روک لیا۔اسن میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے اوصاف حمیدہ اور کمالات علمی اور روحانی کی وجہ سے حضرت اقدس آپ سے بہت محبت کرتے تھے بلکہ ایسی محبت کہ جس کی مثال نہیں مل سکتی۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الاول اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بیویوں میں یہ دلچسپ اختلاف ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان میں سے کس کے خاوند کے ساتھ زیادہ محبت ہے۔آخر معالمہ حضرت ام المومنین تک پہنچا۔آپ نے فرمایا کہ میرے علم میں تو بڑے مولوی صاحب (یعنی حضرت خلیفہ اول) کے ساتھ زیادہ محبت ہے مگر ابھی امتحان کئے لیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ آپ کے سب سے زیادہ پیارے رفیق ابھی آپ اس فقرہ کو پورا نہیں کرنے پائی تھیں کہ حضرت اقدس نے جلدی سے فرمایا۔کیوں مولوی نورالدین صاحب کی کیا بات ہے؟ اور اس طرح اس حل شدہ مسئلہ کی تصدیق ہو گئی۔علا پھر آپ ہی ہیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خوش بُودے اگر ہر یک ز امت نور دیں مددے چه ہمیں کو دے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے پھر اللہ تعالٰی نے بھی آپ کو حضرت اقدس کے وصال کے بعد خلافت اوٹی کے بلند و بالا منصہ پر سرفراز فرما کر اور بعد وفات حضرت کے پہلو میں جگہ دے کر اس بات کا ثبوت بہم پہنچا دیا کہ واقعی آ۔کا مقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلاموں میں سب سے اونچا تھا۔مگر اس کے باوجود جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی عزت کا سوال تھا وہاں آپ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے جذبات غیرت کا اظہار کرنے اور سلسلہ کے عاشق اور فدائی انسانوں پر بھی اظہار ناراضگی کرنے میں کوئی دریغ نہ فرمایا۔چنانچه محترم مولوی تاج الدین صاحب لائلپوری قاضی سلسلہ عالیہ کا بیان ہے کہ ہر " حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حضرت خلیفہ ایج الاول کا ایک عزیز عبد الرحمن نام سخت آوارہ اور بھنگی چرسی تھا۔حضرت اقدس کو جب اس کا علم ہوا تو حضور نے آپ کو کہلا بھیجا کہ اس لڑکے کو قادیان سے نکال