حیاتِ نور

by Other Authors

Page 262 of 831

حیاتِ نور — Page 262

ور نے آپ کے ایمان اور عرفان کو اور بھی جلا دی۔چنانچہ آپ جذبہ محبت و عقیدت سے سرشار ہو کر اٹھے اور نہایت پر خلوص انداز میں عرض کی کہ حضرت عمر نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور رَضِيتُ بِاللهِ رَبِّاً وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا کہہ کر اقرار کیا تھا۔اب میں اس وقت صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک اور و ہم حضور کے متعلق نہیں گزرا۔یہ خدا تعالیٰ کا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے اسباب ایسے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں۔میں آپ کے حضور اقرار کرتا ہوں۔رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبِّاً وَبِكَ مَسِيحَا وَ مَهْدِيَا فضل۔حضرت مولوی صاحب کی اس مخلصانہ عرضداشت کو سنکر حضرت اقدس نے بھی اپنی تقریر ختم فرما دی۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی جنہوں نے یہ سوال اُٹھایا تھا۔ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ زارو قطار رور ہے تھے اور تو یہ کر رہے تھے۔" الا اس سیارے بیان سے مجھے صرف یہ دکھانا ہے کہ حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس کے ادب واحترام کے لحاظ سے کس مقام پر تھے۔اسی قسم کا ایک اور واقعہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت مولوی صاحب کی طرف منسوب کر کے یوں لکھا ہے: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی ، میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جائے۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا۔میں تو نہیں کہتا۔آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ناچار مولوی عبد الکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور! لوگ بہت ہیں۔بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔جاؤ جی! میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے۔میں نے کہا مولوی صاحب ! جواب لے آئے۔" خاکسار نے بعض صحابہ سے یوں بھی سنا ہے حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کو حضرت اقدس