حیاتِ نور — Page 245
۲۴۵ شدے امید کہ مفصل بیان کرده بودے۔اتنا مجمل بایں الفاظ افغانی بایں عبارت چه مهدی پیدا شوی دی او وقت و ظهوری ندی " ترجمہ: مهدی موعود پیدا شده لیکن ظاهر نشده است۔فقط وسن وفات حضرت ا - موصوف سلخ ذی الحجه ۱۲۹۴ هجری است - دریں عاجز را شوق شرف اندوزی از آنجناب از حد زیاده است - دعا فرمایند که اسباب میسر شوند - بخدمت شریف مولانا نورالدین صاحب تحیه سلام بشوق قبول باد۔باقی السلام علیکم وعلى من لديكم دست لرزان است اگر قصور رفته معاف فرمایند - زیادہ آداب راقم حمید اللہ المشهور بملا عصوات از مقام پھور ضلع ہزارہ علاقہ مانسی و یکم ماه اکتوبر ۱۸۹۸ء " اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ حضرت صاحب کو ٹھہ والے ایک بڑا روحانی مقام رکھنے والے اور صاحب کشف بزرگ تھے اور حضرت مولوی صاحب کی عظمت اور بلند روحانی مقام سے خوب واقف تھے۔وقد صیبین کے ایک ممبر کیلئے آپ کا ایک طرف کا خرچ پیش کرنا اکتوبر ۱۸۹۹ء حضرت اقدس کو چونکہ اللہ تعالیٰ سے اس امر کی اطلاع مل چکی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے واقعہ صلیب کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کی تھی اور بعض آثار سے یہ امر ظاہر ہوتا تھا کہ نصیبین میں بھی آپ کی آمد کا پتہ چلتا ہے۔اس لئے حضور نے تین افراد پر مشتمل ایک وفد تیار فرمایا جو اس ملک میں جائے اور اس بارہ میں مفید معلومات حاصل کر کے واپس آئے۔اس وفد کے اخراجات سفر کی فراہمی کے لئے حضور نے اشتہار للانصار “ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع فرمایا۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب نے حضرت کی اس آواز پر سب سے پہلے لبیک کہا اور ایک شخص کے لئے ایک طرف کا خرچ فورا ادا فرما دیا۔اس کے بعد حضور نے جلسہ الوداع“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔گواس مضمون کو مکمل طور پر درج کرنا زیر نظر کتاب کے موضوع کے لحاظ سے ضروری نہیں۔بلکہ اس کا صرف ابتدائی حصہ ہی کافی ہے لیکن چونکہ اس میں موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بہت سے قیمتی اسباق ہیں۔اور اگر چہ یہ وفد بعض مجبوریوں کی وجہ سے نصیبین نہیں جا سکا تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے یہ مضمون حضرت اقدس سے اس لئے لکھوایا کہ تا بعد میں جو ہزاروں واقفین اعلائے کلمہ حق