حیاتِ نور — Page 244
۲۴۴ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول مفر مایا کرتے تھے کہ: میں جب بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔آپ نہایت ادب و احترام سے پیش آتے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشفی طور پر آپ کو معلوم ہو گیا تھا کہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہو جاؤں گا“۔چنانچہ ذیل میں ایک ایسے انسان کی شہادت پیش کی جاتی ہے جو نہایت ہی صالح اور ثقہ آدمی تھا۔اور وہ شہادت یہ ہے: د محمد و فصلی علیٰ رسولہ الکریم بخدمت شریف کاشف رموز نہانی واقف علوم ربانی جناب مرزا صاحب مد ظلكم السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته عرضداشت اینکه چونکه فضیلت پناه محمد یحیی اخوانزاده صاحب در خدمت شما مشرف شده واپس آمد۔بار ہا بمن اتفاق ملاقتش افتاد۔ہر بار کہ ملاقاتش حاصل شدے ذکر جمیل آنجناب و تذکره خلق عظیم مولوی نورالدین صاحب بجنبانیدے بحکم من احب عیا اکثر ذکرہ ہر وقت بر زبانش گفتگوئے شماو د یار شما می بود۔آخر ایک روز در اثنا بحث سخن از مهدی و عیسی و مجدد در آمد۔ناگاه از زبانم بر آید که یک روز مرشد ما حضرت صاحب کو ٹھہ والا فرمود که مهدی موعود پیدا شده است لکن ظاہر نشده است اکنوں فضیلت پناه محمد یحیی اخوان زاده است و ا پس من شده که این اخبار بصور گواہی قسمیہ بقلم خود بنویس۔پس من بحكم آیہ کریمہ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّهُ الِمٌ قَلْبُهُ - وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لمِنَ الْأَلِمِينَ - وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ - گواہی بخدا می دهم که پیش از وفات خود حضرت صاحب کوٹھہ والا سال یا دو سال در ۱۳۹۲ هجری یا - ۱۲۹۳ هجری با خواص خویش نشسته از هر باب گفتگو از معارف و اسرار می فرمودند ناگاه سخن مهدی در میان آمد فرمودند که مهدی موعود پیدا شده اما ظاهر نشده والله بالله ثم تا اللہ کہ ایس راست و درست گفته نہ بہوائے نفس و یا غرض دیگر لیکن حضار مجلس این سخن را مقصود سے ندانسته که مهدی چیست و کجا باشد و کی باشد - اگر پرسیده