حیاتِ نور — Page 240
۲۴۰ ایک عزیز طالب علم کو دینیات کا سبق یاد نہ کرنے پر نصیحت فروری ۱۸۹۹ء جماعت میں دینداری کی روح پیدا کرنے کی آپ کو اس قدر فکر رہتی تھی کہ آپ چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے لوگوں کو دینی تعلیم کا درس دیتے رہتے تھے اور آپ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے ساتھ تعلق رکھے اور دینیات کی تعلیم حاصل کرنے سے غافل رہے۔ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ہے تو معمولی سا مگر اس سے حضرت مولوی صاحب کے اس جذبہ پر خاصی روشنی پڑتی ہے۔مدرسہ کے ایک طالب علم نے دینیات کا سبق یاد نہ کیا۔چونکہ اس کے اخراجات آپ برداشت کرتے تھے۔اس لئے آپ کے پاس اس کی شکایت کی گئی۔آپ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: مجھے شکایت پہنچی ہے کہ تم نے دینیات کے پڑھنے سے انکار کیا ہے۔ایک شخص یہاں موجود ہے (ایڈیٹر الحکم کی طرف اشارہ ) اور وہ گواہ ہے۔اس نے کسی طبیب کا پیام مجھے دیا کہ اولاد ہونے کے لئے میں اس کا علاج کروں۔میں نے اس کو یہی جواب دیا کہ مجھے دیندار اولاد کی ضرورت ہے، محض اولا د مطلوب نہیں۔پس میں دین کے سوا کسی چیز کو پسند نہیں کر سکتا۔مدرسہ کے اجراء سے اگر کوئی غرض ہے تو دینی تعلیم اس لئے اگر تم دینیات پڑھنا نہیں چاہتے تو فی الفور یہاں سے چلے جاؤ۔میں نے امام کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے۔اس لئے کوئی شخص جو میرے ساتھ تعلق رکھتا ہے لیکن دین کو دنیا پر مقدم نہیں کرنا چاہتا میرا اس سے کچھ تعلق نہیں رہ سکتا۔تم کو یہ خوب معلوم ہے کہ میں یہاں کسی دنیا طلبی کے لئے نہیں بیٹھا۔دین کے لئے آیا ہوں اور صرف دین کے لئے۔پھر تم دیکھو کہ باوجودیکہ کوئی نہیں جانتا میرے مولا کریم کے سوا کہ وہ مجھے کہاں سے دیتا ہے۔پھر میں نے تمہارے اخراجات با وجود ایسی حالت کے مساکین فنڈ سے نہیں دلائے۔میں نے خود برداشت کئے۔پر ایسی حالت میں بھی اگر تم دین کو حاصل کرنا نہیں چاہتے تو میں تم کو اپنے پاس قطعا نہیں رکھ سکتا۔یا درکھو۔دنیا میں میں کسی ایسے شخص کو جو دین سننا نہیں چاہتا، ہر گز اپنے پاس نہیں رکھ سکتا کیونکہ میرا ارادہ میرا خیال کچھ نہیں رہا۔میں اسے دوسرے کے ہاتھ پر بیچ چکا ہوں۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ بیوی ہو یا لڑکی ہو یا کوئی ہو اگر اسے دینیات کی خواہش نہیں تو مجھے اس سے کوئی غرض نہیں رہ سکتی“۔"