حیاتِ نور — Page 229
۲۲۹ جاتی ہے کہ اگر وہ مقام جو آپ نے سوچا ہے قابل اطمینان نہ ہو یا قابل تعریف نہ ہو یا اس کا ہونا مشکل ہو تو آپ اس سے مطلع فرما دیں تا دوسرے مقامات میں سلسلہ جنبانی کی جائے۔۳۹ ایک صاحب نے ایک خط اس تعلق میں ارسال کیا جس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا: محبی عزیزی اخویم نواب صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته اس وقت مجھ کو آپ کا عنایت نامہ ملا۔اس کو پڑھ کر اس قدر خوشی ہوئی کہ اندازہ سے باہر ہے۔مجھے سے معلوم ہوا ہے کہ نور محمد کی لڑکی کی شکل اچھی نہیں۔اور نہ ان لوگوں کی معاشرت اچھی ہے۔اگر سادات میں سے کوئی لڑکی ہو جو شکل اور عقل میں اچھی ہو تو اس سے کوئی امر بہتر نہیں۔اگر یہ نہ ہو سکے تو پھر کسی دوسری شریف قوم میں سے ہو۔مگر سب سے اول اس کے لئے کوشش چاہئے اور جہانتک ممکن ہو جلد ہونا چاہئے۔اگر ایسا ظہور میں آ گیا تو مولوی صاحب کے تعلقات کو ٹلہ سے پختہ ہو جائیں گے اور اکثر وہاں رہنے کا بھی اتفاق ہوگا۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور چند ہفتہ میں یہ مبارک کام ظہور میں آئیں تو کیا تعجب ہے کہ یہ عاجز بھی اس کارخیر میں مولوی صاحب کے ساتھ کوٹلہ میں آوے سب امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔امید کہ پوری طرح آں محبت کوشش فرما دیں گے۔کیونکہ یہ کام ہونا نہایت مبارک امر ہے۔خدا تعالیٰ پورا کر دیوے۔آمین ثم آمین۔پھر حضور نے ۴ رستمبر ۱۸۹۸ء کو مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا۔افسوس کہ مولوی صاحب کے لئے نکاح ثانی کا کچھ بندوبست نہیں ہو سکا اگر کوٹلہ میں یہ بندوبست ہو سکے تو بہتر تھا۔آپ نے سُن لیا ہو گا کہ مولوی صاحب کی جوان لڑکی چند خورد سال بچے چھوڑ کر فوت ہوگئی ہے۔حضرت مولوی صاحب کی جوان بچی کی وفات ۲۶ / اگست ۱۸۹۸ء جس جوان بچی کی وفات کا اس خط میں ذکر ہے اس کا نام امامہ تھا اور اپنے پیچھے دولڑ کے اور دو لڑکیاں چھوڑ کر ۲۶ /اگست ۱۸۹۸ء کو بروز جمعہ المبارک بعمر ۲۷/۲۶ سال فوت ہوئی تھی۔فاناللہ وانا الیہ راجمعون۔حضرت مولوی صاحب نے رضا بالقضا کا شاندار نمونہ دکھلایا۔حضرت اقدس بھی شریک