حیاتِ نور

by Other Authors

Page 220 of 831

حیاتِ نور — Page 220

ور ۲۲۰ کا دل و جان و روح رواں سے شکر ادا کرتا ہوں کہ کل بوقت عصر خلیفۃ الامام المامور من اللہ یعنی شیخ عبداللہ نے مجھ کو آپ کی طرف سے عمدہ و خوشگوار چائے پلائی۔اس کے ساتھ مختلف قسم کی شیرینی بھی تھی۔اگر چہ وہ ظاہر میں مختلف قسم کی تھی لیکن سب کی سب حلاوت عنایت و شفقت عالی سے ہی بنی ہوئی تھیں اور بزبان حال مسئلہ وحدت وجود کا وعظ فرما رہی تھیں۔اس کے ساتھ نارنگیاں بھی تھیں۔گو ظاہر میں ان کی صورت اور تھی مگر وہی حلاوت اور اسی مبداء سے جو شیرینی اس میں تھی ، ان میں بھی تھی۔میں نے ان سب چیزوں سے مخاطب ہو کر کہا۔بہر رنگے کہ خواب سر برآورد حمله من انداز قدت را می شناسم مگر صوفیانہ دعوت میں شمر ہائے لذیذ کا ہونا میرے لئے بشارت ثمر ہائے نیک کی دیتا ہے۔خدا ہم چنیں کند۔" آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ جاہل پڑھ کر جب ترقی کرتا ہے تو پڑھا لکھا کہلاتا ہے مگر اور ترقی کرتا ہے تو فلسفی بنے لگتا ہے۔پھر ترقی کرے تو اسے صوفی بننا پڑتا ہے۔جب یہ ترقی کرے تو کیا بنتا ہے؟ سر دست میں کچھ نہیں کہہ سکتا افسوس کہ سوال آخر کو آپ نے لاجواب چھوڑا۔مگر ان بزرگوں کا دیکھنے والا ہوں جو وحدت شہود کے مقر اور وحدت وجود میں ساکت تھے اس لئے اس کا جواب اپنے مذاق کے موافق عرض کرتا ہوں جب صوفی ترقی کرتا ہے تو مولانا نورالدین ہو جاتا ہے۔ایک اور امر بھی عرض کرنے کے لائق ہے۔آپ نے تحریر فرمایا کہ مامورمن اللہ انسان دوسرے کی بات مان لینے میں مجبور نہیں کیا جاسکتا۔تعجب ہے کہ آپ نے مجھ کو مامور من اللہ نہیں سمجھا۔حضرت ! جو شخص جو کچھ کرتا ہے وہ اس کام کے لئے مامور من اللہ ہوتا ہے۔پس مامور من اللہ کو مامور من اللہ کی عرض کا قبول کرنا ضروری ہوتا ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ حضرت مہدی زمان مسیح الوقت امام مامور من اللہ میری درخواست کو ہرگز رد نہ فرمائیں گے۔وللناس فيما يعشقون مذاہب