حیاتِ نور

by Other Authors

Page 214 of 831

حیاتِ نور — Page 214

ور تعالٰی نے مہیا کر دیئے ہیں تو یہ گویا خدا تعالیٰ کی ناشکری ہو گی اگر ہم ان خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھا کر ان قوانین پر غور نہ کریں جو خدا کی طرف سے مذہب نے مرتب کر کے ہمارے اعمال اور افعال کو اُن کے ماتحت کیا۔اس لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم مذہب کی نگہبانی کریں۔اور یہ جلسہ اس لئے قائم کیا گیا ہے۔اس لئے میری دل سے یہی دعا ہے کہ جس طرح کل کا دن امن و آرام سے گزرا۔ویسے ہی آج کا دن بھی گزرے اور غالباً مولوی ثناء اللہ صاحب جو امرتسر کے ایک ہونہار نو جوان ہیں اپنے ابتدائی خیالات سے آپ کو خوش کریں گئے۔مولوی صاحب اپنی اس مختصر تقریر کے بعد بیٹھ گئے اور مولوی ثناء اللہ صاحب نے سٹیج پر آکر حاضرین کو مخاطب کیا۔۲۴ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریر کے بعد بابو بیجا رام صاحب پیٹر جی سابق پریزیڈنٹ آریہ سماج سکھر نے تقریر کی۔ان کے بعد پنڈت گوردھن داس صاحب فری تھنکر نے اپنی تقریر کا زیادہ حصہ انگریزی میں اور آخر میں کچھ خلاصہ کے طور پر اردو میں بیان کیا۔پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا۔اس وقفہ کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مشہور و معروف تقریر جو اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے مشہور ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھ کر سُنانا شروع کی۔لیکن ابھی پانچ سوالوں کے جوابات میں سے بمشکل ایک سوال کا جواب ہی سنایا تھا کہ شام ہونے لگی اور اس پر جلسہ ۵ بجے شام ختم کرنا پڑا۔مگر حاضرین نے اصرار کیا کہ اس مضمون کو مکمل طور پر سُنانے کے لئے جلسہ کا ایک دن بڑھایا جائے۔چنانچہ ایگزیکٹو کمیٹی نے موڈریٹر صاحبان کی رضامندی سے انجمن حمایت اسلام کے سیکریٹری اور پریزیڈنٹ صاحب سے چوتھے دن کے لئے مکان کے استعمال کرنے کی اجازت حاصل کر کے میر مجلس حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کو اطلاع دی کہ آپ چوتھے دن کا اعلان کر دیں جس پر آپ نے ذیل کے الفاظ میں آج کے اجلاس کی کاروائی کو ختم کیا: ” میرے دوستو ! آپ نے پہلے سوال کا جواب جناب میرزا صاحب کی طرف سے سنا ہمیں خاص کر جناب مولوی عبدالکریم صاحب کا مشکور ہونا چاہئے جنہوں نے ایسی قابلیت کے ساتھ اس مضمون کو پڑھا۔میں آپ کو مژدہ دیتا