حیاتِ نور — Page 208
يحتسب۔یہ نابکار خاکسار راقم الحروف متقی بھی نہیں ہاں منتقی لوگوں کا محبت اور پورا محب۔مجھے بھی بمقام مالیر کوٹلہ بڑی بڑی ضرورتیں پیش آتی رہیں اور قریب قریب اڑھائی ہزار کے خرچ ہوا۔مگر کیا آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا۔شاید دو تین سو سے زائد کا آپ کو پتہ ہوگا مگر باقی کا علم سوائے میرے مولی کریم کے کسی کو بھی نہیں حتی کہ میری بی بی کو بھی نہیں۔۲۰ دست غیب کا ذکر آ گیا ہے اس لئے موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے ذیل کا واقعہ جو حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کے ساتھ پیش آیا۔درج کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں حضرت مولوی صاحب کے گھر کے ایک حصہ میں رہتا تھا۔حضرت پیر منظور محمد صاحب کے مکان سے شمال مشرق کی طرف کی سڑک تک جگہ خالی تھی۔ان ایام میں احباب بھرتی ڈلوا کر مکان بنا لیتے تھے۔میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ایک روز میں حضرت مولوی صاحب کے پاس مطب میں بیٹھا تھا۔فرمانے لگے کہ یہ جگہ مجھے دیدو۔مریضوں کی رہائش کے لئے درکار ہے ( یہ حضرت مولوی صاحب کے مکان سے ملحق ہے) میں نے عرض کیا کہ جیسے آپ پسند فرماویں۔دریافت کرنے پر کہ کتنا خرچ آیا ہے۔میں نے نوے روپے گنوائے۔تو مجھے مطب کے مغربی دروازے سے نکل کر پچھواڑنے کی طرف آنے کے لئے فرمایا اور خود مکان کے مشرق کی طرف سے آئے۔اور بکڈ پو کے پچھواڑے میں کو ئیں کے پاس ملے اور مجھے سورو پسیہ کا ایک نوٹ دے کر فر مایا کہ دس روپے مجھے واپس دیدینا۔آگے حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ یہ رزق غیب کی صورت ہوگی۔مطب میں روپیہ رکھنے کی کوئی جگہ نہ تھی اور اگر گھر میں کسی جگہ رکھتے تھے یا جیب میں تھے تو مجھے ایک طرف سے بھیج کر خود دوسری طرف سے آنے کی کیا ضرورت تھی۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی اور حضرت نواب میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان فرماتے ہیں کہ دوسری بار جب حضرت مولوی صاحب مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تو ان ایام میں میاں