حیاتِ نور

by Other Authors

Page 199 of 831

حیاتِ نور — Page 199

١٩٩ کلونجی انو ماشہ کالی مرچ چھ ماشہ۔کچور چھ ماشہ مجیٹھ چھ ماشہ۔مشک خالص تین ماشہ۔( کل پانچ دوا ئیں نہیں ) باریک نہیں کر ایک رتی سے دور تی تک تا ایام ولادت ہر ماہ دس دن (صرف ایک وقت ) عورت کو کھلا دیا کریں۔انشاء اللہ تعالیٰ اولا دنرینہ ہوگی۔بہاولپور اورسندھ کا سفر اگست ۱۸۹۴ء اگست ۱۸۹۴ء میں آپ بہاولپور اور سندھ کے ایک لمبے سفر پر تشریف لے گئے۔اس امر کا سراغ ابھی تک مجھے نہیں مل سکا کہ سندھ کس لئے تشریف لے گئے تھے۔البتہ بہاولپور کے سفر سے متعلق اتنا پتہ چلا ہے کہ نواب صاحب بہاولپور بیمار تھے۔انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست کر کے آپ کو چند روز کے لئے بلایا تھا۔اور انہیں حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف والوں نے جو اُن کے پیر تھے آپ کو بلانے کی تحریک فرمائی تھی۔اس کے بارہ میں مولانا غلام احمد صاحب اختر کی روایت ہے کہ: آپ کے بلائے جانے پر بعض لوگ جو ریاست میں ممتاز عہدوں پر تھے، انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ حضرت صاحب ( مراد خواجہ غلام فرید صاحب) بعض اوقات تو دین کا کچھ باقی نہیں رہنے دیتے۔اب 'مرزائی' کے بلائے جانے کا مشورہ دے دیا ہے۔جب یہ بات ایک ذریعہ سے خواجہ صاحب کے پاس پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ مرزا صاحب کا کلام شیخ اکبر کی طرح عمیق ہے۔یہ لوگ اس کو سمجھتے نہیں ، یونہی چلاتے ہیں۔۱۳ جب آپ بہاولپور پہنچے تو نواب صاحب کو دیکھ کر آپ نے واپسی کا ارادہ ظاہر فرمایا مگر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب نے بذریعہ تار حضرت اقدس سے چند دن ٹھہرنے کی اجازت منگوالی۔نواب صاحب اور خواجہ صاحب نے کہا کہ دراصل تو ہم آپ سے ملاقات کرنا اور قرآن کریم کے معارف سننا چاہتے تھے۔علاج تو آپ کو بلانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔غرض قرآن کریم کا درس شروع ہو گیا۔جب میعاد مقرر گزرگئی۔تو حضرت خواجہ صاحب نے نواب صاحب کو علیحدگی میں کہا کہ آپ کہا کرتے ہیں کہ جو ارشاد آپ فرمائیں گے میں اس کی تعمیل کروں گا۔آج میں آپ کو کہتا ہوں کہ اگر ہو سکے تو نورالدین کو یہاں رکھ لو۔نواب صاحب نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ یہاں مستقل طور پر رہائش اختیار کر لیں۔آپ کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ ـور