حیاتِ نور

by Other Authors

Page 197 of 831

حیاتِ نور — Page 197

۱۹۷ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ کی لڑکی کو مسیح موعود جیسا شوہر مل گیا۔اس کے جواب میں حضرت میر صاحب نے فرمایا۔اصل بات تو اللہ تعالیٰ کے فضل ہی کی ہے۔لیکن جب سے میری یہ لڑکی پیدا ہوئی ہے۔میں نے کوئی نماز ایسی ادا نہیں کی جس میں اس کے لئے یہ دعا نہ کی ہو کہ اے اللہ ! تیرے نزدیک جو شخص سب سے زیادہ موزوں و مناسب ہو اس کے ساتھ اس کا عقد ہو جائے۔حضرت مولوی صاحب نے یہ جواب سنکر فرمایا۔بس میں سمجھ گیا یہ کسی وقت کی دعا ہی ہے جس کا تیر نشانے پر لگا ہے۔حضرت مولوی صاحب کا ایک نے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے نام جیسا کہ ہم کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں حضرت مولوی صاحب کو نا دار اور غرباء کی امداد کا خاص خیال رہتا تھا اور کوئی موقعہ آجانے پر آپ بھی دریغ نہ فرماتے تھے۔ذیل کے خط سے بھی جو آپ نے حضرت نواب محمد علیخاں صاحب کو لکھا تھا۔۔اس پر روشنی پڑتی ہے۔خط کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: " شامی کا معاملہ ! شامی صاحب کی شادی میں دو آدمیوں کے خرچ کا ذمہ داریہ خاکسار ہوا ہے اور یہی میرا وعدہ تھا جس پر میں بدل قائم ہوں اور انشاء اللہ قائم رہوں گا۔یہ انشاء اللہ تا کیدی اور قسم ہے نہ حیلہ سازی فقط۔” مجھے یاد پڑتا ہے اگر میری یادداشت غلطی نہیں کرتی اور اگر غلطی ہو تو آپ اصلاح فرماویں کہ آپ نے فرمایا تھا چھ روپیہ دو آدمیوں کے لئے کافی ہیں۔اس کی دو صورتیں ہیں۔آپ کے دو آدمی مولوی عبد اللہ صاحب اور میاں نواب خاں صاحب ہمارے پاس کھانا کھا لیا کریں اور آپ اس کے بدلہ میں شامی کی بی بی اور اس کی والدہ کو دیں۔جناب من ! شامی کے ہاتھ اگر قارون کا خزانہ ہو کفایت نہیں کرتا اور ہم اس کے فضول خرچ کے ذمہ دار نہیں نہ شرعا نہ عرفا۔جب اس کو اپنے اخراجات کے لئے مجبور نہ کیا جاوے گا۔وہ فضولی میں ترقی کرے گا جس کی حد نہیں پس یہ ہماری غلطی ہوگی اور ہے۔شامی کے ہاتھ نقد روپیہ ہرگز نہ دیجئے۔اور کہہ دیجئے کہ ہم نے شادی کر دی۔تم اپنا فکر کرو۔بی بی کا فکر نہ کرو نہ شادی کا۔یہ ہماری