حیاتِ نور — Page 195
۱۹۵ کرتے حضور ! حاضر ا یہ کہہ کر قریب جا کر بیٹھ جاتے۔حضور اقدس کو احباب مجلس میں سے ہر ایک پر نظر عنایت وشفقت فرماتے لیکن علمی مذاکرات کے وقت حضور کی توجہ علماء کرام میں سے مخصوص طور پر حضرت علامہ نورالدین صاحب، حضرت مولانا عبد الکریم صاحب اور مولانا سید محمد احسن صاحب کی طرف ہوتی تھی اور جب یورپ کے حالات کا ذکر آتا تو روئے سخن حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی طرف ہوتا“۔حضرت مولانا راجیکی صاحب فرماتے ہیں: ایک مرتبہ جب شام کی مجلس ختم ہوئی تو حضرت مولوی صاحب نے محترم شیخ کریم الہی صاحب کو جو پٹیالہ کے باشندہ تھے۔مخالب کر کے فرمایا کہ: آپ حضرت اقدس کی مجلس میں جب بیٹھا کریں تو ایسے موقع پر درود شریف کثرت سے پڑھتے رہا کریں۔اس سے بہت بڑا روحانی فائدہ ہوتا ہے۔پھر فرمایا میں نے آج کی مجلس میں قریباً پانچ سو مرتبہ درود شریف پڑھا ہے۔میں بھی یہ بات سُن رہا تھا۔اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ حضرت اقدس کی مجلس مبارکہ اور صحبت بابرکت میں آپ کا عام طور پر یہ دستور تھا کہ درود شریف کا ورد جاری رکھتے۔حضرت مولا نا فرماتے ہیں: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے مقدس نبیوں اور رسولوں کی صحبت میں درود شریف پڑھتے رہنا بہت ہی بابرکت شغل ہے اور اسی طرح مجلس خلفائے راشدین مہدیین میں بھی ایسا پاک شغل آداب رسالت و خلافت سے ہے بجز اس کے کہ مجلس میں خود خدا کا مقدس رسول یا خلیفہ کسی کو مخاطب فرما کر گفتگو کا موقعہ ہے اور اسے اس سعادت سے بہرہ ور فرمائے۔دوسرے اوقات میں مجلس میں درود شریف پڑھتے رہنا بہترین شغل ہے“۔حضرت خلیفہ المسیح الاول سے متعلق خاکسار راقم الحروف نے اکثر بزرگوں سے سنا ہے کہ آپ حضرت اقدس کا ذکر عام طور پر ہمارے امام حضرت اقدس اور امام الزمان وغیرہ کے الفاظ سے کرتے تھے۔لیکن کبھی کبھی شدت محبت کی وجہ سے مرزا یا "میرے مرزا اور ”مرزا جی کہنے پر ـور