حیاتِ نور

by Other Authors

Page 194 of 831

حیاتِ نور — Page 194

۱۹۴ حسن علی صاحب کو دیکھا کہ آپ نے خلال کے لئے تنکا تو ڑا ہے تو آپ کھڑے ہو گئے اور مولوئی صاحب موصوف کو مخاطب کر کے فرمایا۔مولوی صاحب! حضرت مرزا صاحب کی صحبت کا اثر میرے قلب پر بلحاظ تقویٰ کے اس قدر پڑا ہے کہ جس تنکے کو آپ نے توڑا ہے۔میرا قلب اس کے لئے ہرگز جرات نہیں کر سکتا بلکہ ایسے فعل کو خلاف تقویٰ اور گناہ محسوس کرتا ہے۔اس پر مولوی حسن علی صاحب سخت متعجب ہو کر کہنے لگے کیا یہ فعل بھی گناہ میں داخل ہے؟ میں تو اسے گناہ نہیں سمجھتا۔حضرت مولانا نے فرمایا۔جب یہ سر کنڈا غیر کے مکان کی چیز ہے تو اس سے مالک مکان کی اجازت کے بغیر تنکا توڑنا میرے نزدیک گناہ میں داخل ہے۔مولوی حسن علی صاحب کے قلب پر تقویٰ کے اس دقیق عملی نمونہ کا بہت بڑا اثر ہوا۔حضرت مولا نا راجیکی صاحب ہی کا بیان ہے کہ: نواب خاں صاحب تحصیلدار جو خلص احمدی تھے۔جب گجرات میں تبدیل ہو کر آئے تو جب دورے پر راجیکی میں تشریف لاتے ، میرے پاس کچھ دیر ضرور قیام فرماتے اور مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور عظمت شان کے متعلق اکثر تذکرے ہوتے رہتے تھے۔ایک دن اسی طرح کی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ نواب خاں صاحب تحصیلدار مرحوم نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب سے ایک دفعہ عرض کیا کہ مولانا! آپ تو پہلے ہی باکمال بزرگ تھے۔آپ کو حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے زیادہ کیا فائدہ حاصل ہوا۔اس پر حضرت مولانا صاحب نے فرمایا۔نواب خاں! مجھے حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے فوائد تو بہت حاصل ہوئے ہیں لیکن ایک فائدہ اُن میں سے یہ ہوا ہے کہ پہلے مجھے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بذریعہ خواب ہوا کرتی تھی اب بیداری میں بھی ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں : حضرت اقدس جب شام کے دربار میں حضرت مولانا کو یاد فرماتے تو آپ جو کچھ فاصلہ پر نمازی انتباب میں تشریف فرما ہوتے فور آمو دبانہ لہجہ میں عرض