حیاتِ نور — Page 193
ـارم ۱۹۳ اثناء میں براہین احمدیہ کا اشتہار نکلا اور میرے پاس بھی پہنچا۔اشتہار پڑھتے ہی میں بہت مسرور ہوا کہ وعدہ تجدید کے ظہور میں آنے کی بشارت کا موقعہ ملا۔جب میں قادیان گیا تو سنت نبوی کے مطابق اللهم رب السموات السبع و ما اظل الح کی دعا پڑھی۔جب آپ پر نظر پڑی تو آپ کا صادقانہ حلیہ دیکھ کر پہچان گیا کہ ایسا منہ صادقوں کے بغیر نہیں ہو سکتا۔آپ کو دیکھنے سے اور آپ کے اخلاق حسنہ سے میرا قلب اس قدر متاثر ہوا کہ محبت سے میں آپ کا گرویدہ ہو گیا۔پھر ایک گناہ مجھے محسوس ہوا کرتا تھا۔اس کے دُور کرنے کے لئے میں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ دور نہ ہوا تھا۔آخر حضرت اقدس کی توجہ اور برکت صحبت سے خود بخود دور ہو گیا حالانکہ میں نے آپ سے اس گناہ کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔آپ نے تذکرۂ مولوی حسن علی صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ میرے نزدیک و یزکیھم کی علامت خدا تعالیٰ کے مامور کے لئے بطور نشان کے پائی جاتی ہے یعنی یہ کہ مامور من اللہ کی صحبت سے تزکیہ نفوس کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور طبیعت گناہوں سے متنفر ہو جاتی ہے اور یہ بات حضرت اقدس مرزا صاحب کی صحبت سے مجھے تو فی الواقع حاصل ہوتی جارہی ہے اور باریک سے بار یک تقوی کی راہیں کھلتی جارہی ہیں۔ہیں آپ فرماتے ہیں کہ : ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ قادیان کے ایک احمدی دوست نے متعدد احمدی احباب کی دعوت کی جن میں حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور مولوی حسن علی صاحب بھی تھے۔جب دعوت سے فارغ ہو کر قیام گاہ کی طرف واپس آ رہے تھے تو راستہ میں ایک مکان تھا۔اس پر سرکنڈوں کا چھپر تھا۔اس چھپر سے بعض سرکنڈے جو قریب اور نیچے کی طرف جھکے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک سرکنڈے سے مولوی حسن علی صاحب نے دانتوں کے خلال کے لئے ایک تنکا توڑ لیا۔جب حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ وارضاہ نے مولوی حضرت مولوی غلام رسول صاحب را نیکی کی تحریری بیعت ۱۸۹۷ء کی ہے اور دستی بیعت ۱۸۹۹ء کی۔اس لحاظ سے آپ کا یہ بیان معینی شاہد کے طور پر نہیں ہو سکتا۔البتہ حضرت خلیفتہ اسیع الاول یا دوسرے احباب سے سنا ہوگا۔ـور